Thursday, 23 October, 2008, 02:57 GMT 07:57 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک مدرسے پر مبینہ امریکی میزائل حملے کی اطلاعات ہیں جس میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی بتائے جارہے ہیں۔
یہ مبینہ امریکی حملہ جس میں کم از کم دو میزائل داغے گئے ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستانی پارلیمان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ قرار داد میں کہا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع اور قوم بیرونی جارحیت کے خلاف یکجا ہے۔
شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً ایک بجے مبینہ طور پر سرحد پار سے دو میزائل داغے گئے۔
مقامی لوگوں کے بقول میزائل میرانشاہ سے تقریباً کئی کلومیٹر دو ڈنڈہ درپہ خیل میں واقع ایک دینی مدرسے ’سراج العلوم’ پر گرے ہیں جس سے ان کے مطابق کم سے کم سات طالبعلم ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرنے والے تمام افراد مقامی بتائے جارہے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مدرسے کا آدھا حصہ تباہ ہوگیا ہے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ مرنے والوں میں کوئی غیر ملکی بھی شامل ہے یا نہیں۔
اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نےکہا کہ’ وہ اس بارے میں معلومات اکھٹے کررہے ہیں‘۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ امریکہ کو مطلوب اہم طالبان رہنماء مولانا جلال الدین حقانی کے مدرسے اور گھر کے قریب واقع ایک مدرسے پر ہوا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مدرسہ کن کا ہے۔
اس سے قبل بھی جلا ل الدین حقانی کے گھر کو مبینہ طور پر میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں خواتین سمیت دس سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں رواں مہینے کے دوران افغانستان سے مبینہ طور پر کئی امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں جن میں اسی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ سرحد پار سے یہ حملہ پاکستانی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی اس چودہ نکاتی قرار داد کی متفقہ منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا اور حکومت اس ضمن میں مؤثر اقدام کرے۔
قرارداد میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے کسی اور ملک میں دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی۔ اور غیر ملکی جنگجوؤں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔