Monday, 20 October, 2008, 09:14 GMT 14:14 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے تازہ حملے کیے ہیں جس میں کم سے کم سات عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق تازہ حملے پیر کی صبح تحصیل خار اور نواگئی کے علاقوں پر کیے گئے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح کے وقت توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے تحصیل خار اور نواگئی کے علاقوں شوہ، تنگی، چارمنگ، لوئی سم اور زور بندر میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں سات عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ تاہم مقامی ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
اہلکار کے مطابق تقریباً دو ماہ سے جاری اپریشن میں اب تک تحصیل خار کے تمام علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا اگلہ ہدف نواگئی تحصیل ہے جہاں مقامی طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تازہ حملوں میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں طالبان کا موقف معلوم کرنے کےلیے ان کے ترجمان مولوی عمر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔
باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے مقامی عسکریت پسندوں کے خلاف اگست میں کارروائیاں شروع کی تھیں۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس آپریشن میں اب تک سینکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ عام شہری بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
آپریشن کی وجہ سے باجوڑ سے لاکھوں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہوئی ہے۔ نقل مکانی کرنے والے یہ خاندان بدستور دیر، مردان اور پشاور میں عارضی پناہ گاہوں میں رہائش پزیر ہیں۔