http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 16 October, 2008, 07:59 GMT 12:59 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وزیرستان:میزائل حملہ، پانچ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پہلی مرتبہ طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے زیر کنٹرول علاقے میں افغانستان سے مبینہ طور پر امریکی میزائل حملہ ہوا ہے جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ڈرون کی تاریخ

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح ساڑھے گیارہ بجے جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے علاقے سام ٹپرغئی میں افغانستان سے مبینہ طور طور دو میزائل داغے گئے جو مقامی افراد ڈاکٹر بشار اور غازی مرجان کے مکانات پر گرے۔ان کے بقول حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں ایک غیر ملکی بھی بتایا جارہا ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس سلسلے میں ابھی تک حکومتی موقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس سے قبل اس قسم کے واقعات کے بارے میں حکومت نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ’ دھماکے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہیں‘۔

یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے زیر کنٹرول علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس سے قبل جتنے بھی میزائل حملے ہوئے ہیں وہ افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان میں طالبان سربراہ حافط گل بہادراور وانا میں ملا نذیر کے زیر کنٹول علاقوں میں ہوئے ہیں۔

افغانستان سے مبینہ میزائل حملوں کا سلسلہ ایسے وقت جاری ہے جب پاکستان کی منتخب حکومت کی جانب سے بند کمرہ اجلاس میں پارلیمنٹرینز کو قومی سلامتی پر بریفنگ دی جا رہی ہے۔

رواں مہینے کے دوران ہونے والے چار میزائل حملوں میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بعض غیر ملکی بھی بتائے جاتے ہیں۔