Monday, 13 October, 2008, 16:36 GMT 21:36 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور بعض علاقوں میں اس کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے سولہ گھنٹے تک جاپہنچا ہے۔
فیصل آباد،سرگودھا اور لاہورمیں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں،لاہور میں واپڈا کے ایک مقامی دفتر پر حملہ ہوا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔
پاکستان کو سنہ دو ہزار سات سے بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور شہری اور دیہی علاقے مسلسل لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں البتہ یہ دورانیہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔
اس برس جولائی میں جب گرمی اپنی شدت پر تھی تو طلب کے مقابلے میں پاکستان کو پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی رہی۔
بعد میں دریاؤں میں پانی آنے اور موسم کی شدت میں کمی کے ساتھ ساتھ طلب رسد کا فرق کم ہوگیا تھا اور ماہ رمضان میں لوڈ شیڈنگ کم ہوکر بعض علاقوں میں دو سے تین گھنٹے تک رہ گئی تھی۔
ماہ رمضان کے بعد لوڈ شیڈنگ میں اچانک اضافہ ہوا اور گذشتہ ہفتے بعض علاقوں میں یہ سولہ گھنٹے تک جاپہنچی ہے۔ شہری علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا کم از کم وقفہ ایک گھنٹے سے بڑھا کر ڈیڑھ سے دو گھنٹے کردیا گیا ہے اور بعض علاقوں میں مسلسل چھ چھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔
واپڈا اور بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں نے سالانہ مرمت کے لیے حبکو،لال پیر،مظفرگڑھ ،گدو اور جام شوروں کے کئی یونٹ بند کردئیے گئے۔
دریاؤں میں پانی کی کمی کی وجہ سے پن بجلی کی پیدوار نصف یعنی چھ ہزار میگا واٹ کے گھٹ کر تین ہزار میگا واٹ رہ گئی ہے۔
پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ مصیبتیں ایک ایک کرکے نہیں آئیں بلکہ ایک ساتھ حملہ آور ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف سالانہ مرمت کے لیے یونٹ بند تھے ساتھ ہی چند ایک بڑے یونٹ خراب ہوگئے۔گیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا اور دریاؤں میں پانی کی کمی بھی ہوگئی۔
لاہور میں پیر کو ایک تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے
کہا پیپکو کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ غیر اعلانیہ نہ کرے۔
![]() |
|
| لاہور میں واپڈا کے ایک مقامی دفتر پر حملہ ہوا اور توڑ پھوڑ کی گئی |
پانی و بجلی کے وزیر نے کہا کہ پاکستان میں طلب کے مقابلے میں بجلی پیدا کرنے کے وسائل کم ہیں جبکہ اگلے برس بجلی کی طلب میں مزید آٹھ فی صد اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک سے بجلی خریدنے کے لیے بات کی جارہی ہے لیکن بجلی کی سپلائی ہوتے ہوتے دو برس لگ جائیں گے جبکہ ہائیڈل منصوبہ اگر آج شروع کیا جائے تو بجلی کی فراہمی شروع ہونے میں پانچ برس لگیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی اس کمی سے جہاں عام شہری متاثر ہورہے ہیں وہاں مقامی صنعتوں کے لیے مشکل حالات پیدا ہوچکے ہیں اور اس کا اثر براہ راست مجموعی قومی پیداوار پر پڑے گا۔