http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 10 October, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

قبائلیوں کی سر کٹی لاشیں برآمد

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں کو طالبان کے خلاف حال ہی میں تشکیل دیئے جانے والے قبائلی لشکر کے چار حمایت یافتہ افراد کی سربُریدہ لاشیں ملی ہیں۔

جرگے میں خود کش حملہ، پندرہ ہلاک

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر مقام خار سے تقریباً بیس کلومیٹر مغرب کی جانب تحصیل چار منگ کے علاقے تنگی خوڑ میں لوگوں کو چار مقامی افراد کی لاشں ملی ہیں جنہیں مبینہ طور پر گلا کاٹ کر مارا گیا ہے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک قبائلی مشر بھی بتائے جا رہے ہیں تاہم ان کا نام سامنے نہیں آسکا ہے۔

ان کے بقول جن افراد کی لاشیں ملی ہیں انہیں جمعہ کو دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ شریف آباد گاؤں سے نامعلوم افراد نےاغواء کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ساتوں افراد طالبان کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے منعقدہ جرگے کے بعد واپس شریف آباد آئے تھے۔ تین افراد اب بھی لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ مارے جانے والے چاروں افراد کچھ عرصے سے علاقے میں طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیئے جانے کے حوالے سے خاصے سرگرم تھے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ہلاکتوں کے حوالے سے عام لوگوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے اور انہوں نے لاشیں بازار میں رکھ کر ایک جرگہ بلا لیا ہے تاکہ حالات کا جائزہ لیکر آئندہ کا لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے۔

باجوڑ ایجنسی میں مسلح طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیئے جانے کے بعد مقامی افراد کو گلا کاٹ کر مارنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔تاہم ابھی تک کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے مسلح طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران حکومت نے مقامی قبیلوں پر مشتمل لشکر کو مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف اٹھانے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تحصیل سالازئی میں قبائلی لشکر تشکیل دیا گیا تھا۔

کچھ عرصے قبل سالارزئی قبیلے کے مسلح لشکر اور مشتبہ طالبان کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں دونوں طرف سے دس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔