Thursday, 09 October, 2008, 09:26 GMT 14:26 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جیٹ طیاروں سے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق رات کو مٹہ میں ایک مکان پر گولہ گرنے سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں عورت اور بچے بھی شامل ہیں۔
سوات میڈیا سینٹر کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو صبح چھ بجے کے قریب تحصیل مٹہ کے علاقے لنڈئی سر اور شاہ ور میں جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بمباری میں شدت پسندوں کے تین مراکز کو مکمل پر تباہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہ مولانا فضل اللہ اور چینی انجینئروں کے اغواء کار بھی اسی علاقے میں موجود تھے۔ لیکن ان کے ہلاکتوں کی اطلاع
نہیں ملی ہے۔
|
|
دوسري جانب تحصيل کبل کے علاقے ہزارہ ميں ايک اور پرائمري سکول کو دھماکہ خيز مواد سے اڑاديا گيا ہے۔ اس طرح سوات ميں تباہ ہو نے والے سکولوں کي تعداد ایک سو بارہ ہو گئي ہيں۔
دوسری طرف باجوڑ میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام ماموند کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں آٹھ غیر ملکی سمیت بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔