http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 07 October, 2008, 10:44 GMT 15:44 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

سوات: دو بڑے تعلیمی ادارے تباہ

صوبہ سرحدکے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نےعلاقے کےدو معیاری تعلیمی اداروں، مشنری گرلز ہائی سکول اور ایکسیل سیئر، کالج کو بارود سے اڑا دیا ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کے مضافاتی علاقے سنگوٹہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو نامعلوم افراد نے مشنری گرلز ہائی سکول اور لڑکوں کے ایکسیل سیئر کالج کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

ان کے بقول انیس سو اکیانوے میں قائم ہونے والے ایکسیل سیئر کالج کے چالیس کمروں میں سے سولہ مکمل طور پر تباہ جبکہ عمارت کے باقی حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کالج میں ایک ہزار سے زائد طالب علم زیر تعلیم تھے۔

گزشتہ رات ہی کو کالج کے قریب واقع چھبیس کمروں پر مشتمل مشنری گرلز ہائی سکول کے بھی دس سے زائد کمروں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا۔ لڑکیوں کا یہ سکول انیس سو پینسٹھ میں والئی سوات کی دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا جس اس وقت میں بارہ سو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں جب سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں تعلیم اداروں کے تباہ ہونے کی معلومات ملی ہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں سے رابطے کے بعد ہی اس بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔

سوات میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر فضل احد کا کہنا ہے کہ اب تک ایک سو پانچ سے زائد سکولوں کو جلایا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کو شورش زدہ تحصلیوں مٹہ، چہار باغ، کبل اور خوازہ خیلہ میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کے بقول ان سکولوں کی تباہی کی وجہ سے اس میں پڑھنے والے تینتیس ہزار سے زائد بچے اور بچیاں تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کہ ان سکولوں کی دوبارہ تعمیر کے حوالے سے صوبائی حکومت اور نہ ہی عالمی امدادی اداروں نے ان کے ساتھ کوئی رابطہ کیا ہے۔