Monday, 06 October, 2008, 10:57 GMT 15:57 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
تحریکِ طالبان نے صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور وزیراعلٰی حیدر خان ہوتی کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
تحریکِ طالبان درہ آدم خیل کےترجمان محمد نے بی بی سی سے سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عید کے دوسرے دن عوامی نینشل
پارٹی کے قائد اسفند یار ولی خان پر خودکش حملہ کیا تھا۔ انہوں نے حملے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسفندیار ولی
نے انتخابات سے قبل پشتون سرزمین پر امن لانے کا وعدہ کیا تھا مگر اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں
کی پاسداری نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے ان پر حملہ کر کے انہیں ’صوبہ چھوڑنے‘ پر مجبورکردیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اسفندیار اس وقت اسلام آباد میں ہیں لیکن وہ جہاں بھی جائیں گے انہیں حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔
طالبان ترجمان محمد نے اتوار کی رات مردان میں وزیر اعلٰی سرحد کی رہائش گاہ پر راکٹ حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ان کی مردان میں ذیلی تنظیم تحریکِ طالبان مردان کی طرف سے کیا گیا۔
یاد رہے کہ عید کے دوسرے روز ایک مبینہ خود کش بمبار نے ولی باغ چارسدہ میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کو مارنے کی کوشش کی جس میں وہ خود تو محفوظ رہے البتہ موقع پر ان کے محافظ، پولیس اہلکار اور پشتو کے ممتاز لکھاری فضل غنی سمیت تین افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔
حملے کے بعد اسفندیار ولی خان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔ آج کل سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر وہ اسلام آباد میں ہیں۔
اس واقعہ کی تفتیش کے لیے تین مختلف تفتیشی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہے اور پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا لیکن ابھی تک تحقیقات کے ٹھوس نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔