Wednesday, 01 October, 2008, 11:12 GMT 16:12 PST
ذیشان ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ سے کہا ہے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے زیر قیادت نیٹو افواج کے حملوں سے دہشت گردی کا مسئلہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھ جائے گا۔
بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں نے جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا کہ آپ میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے کو دہشت گردی کہتے ہیں لیکن جب امریکہ سرحد پار سے قبائلی علاقوں پر میزائل حملے کرتا ہے تو آپ اس کی مذمت کیوں نہیں کرتے اور میزائل حملوں کو دہشت گردی کیوں نہیں کہتے۔
اس سوال کے جواب میں وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ آپ جو لفظ کہیں میں ابھی کہہ دیتا ہوں ۔ ان الفاظ کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ ہم قبائلی علاقوں میں میزائیل حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور اسے دہشت گردی کہتے ہیں اور پھر صحافیوں کو مخاطب کر کے کہا اب آپ بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں امریکہ کی سفیر سے کہا ہے کہ ان حملوں سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’میں نے سفیر سے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صورتِ حال سے ہم زیادہ بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں اور صدر بش نے مجھے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا اور وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے‘۔
اس سے پہلے وزیر اعظم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ تو برطانیہ اور نہ امریکہ سمیت دوسرے ممالک
کی ہے بلکہ یہ جنگ ہماری اپنی جنگ ہے جس میں ہماری قائد بینظیر بھٹو بھی ہلاک ہوئی ہیں اور ہم اپنے لوگوں کی سلامتی کے لیے اقدامات
کر رہے ہیں ۔
|
باجوڑ ایجنسی فوجی آپریشن
|
وزیر اعظم نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پہلے فوج اکیلی لڑ رہی تھی اب مقامی قبائلی بھی شر پسندوں کے خلاف کارروائی میں فوج کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا جو بیرونی عناصر ملک کی خود مختاری، سلامتی اور معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ اب پاکستان کے عوام حکومت کے ساتھ ہیں۔