Tuesday, 30 September, 2008, 18:32 GMT 23:32 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان فوج کے ڈیڑھ درجن کے قریب اہم ترین عہدوں پر تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں کی وجہ تو سرکاری طور پر معمول کی کارروائی بتائی جا رہی ہے لیکن بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جہاں اپنے با اعتماد افسران کو اہم عہدوں پر بٹھایا ہے وہاں منتخب حکومت اور امریکہ کو بھی خوش کردیا ہے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج سے پیپلز پارٹی حکومت خوش نہیں تھی کیونکہ انہوں نے بنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کی تھی۔ جس پر وزیراعظم نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان کی رائے کو نظر انداز کیا تھا۔
بیس ستمبر کے میریٹ حملے کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے ایک اجلاس میں انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی تھی۔ جس کی جھلک جاری کردہ بیان میں بھی واضح نظر آرہی تھی۔ یہ محض اتفاق ہی ہوگا کہ ان ہی دنوں میں رچرڈ باؤچر نے بھی آئی ایس آئی کے خلاف بیان دیا تھا۔
جنرل کیانی نے جو ترقیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں کا حکم جاری کیا ہے ان میں کم از کم دو تبادلے ایسے ہیں جس بارے میں حیرانی ظاہر کی جا رہی۔ جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج اور راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محسن کمال کی تبدیلی شامل ہے۔ ان دونوں افسران کو سابق صدر پرویز مشرف نے ان عہدوں پر محض ایک سال پہلے ہی تعینات کیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کی مدت عام طور پر چار سال ہوتی ہے اور کوئی بھی پوسٹنگ ملنے کے بعد متعلقہ افسر کم از کم دو سال اس پر رہتا ہے۔ لیکن ان دونوں افسران کے معاملے میں صورتِ حال فوجی رول یا روایت کے برعکس نظر آتی ہے۔
ندیم تاج کو کور کمانڈر گجرانوالہ لگایا گیا ہے جبکہ محسن کمال کو جی ایچ کیو میں ملٹری سیکریٹری تعینات کیاگیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ عہدے بھی اتنے غیر اہم نہیں ہیں لیکن جن عہدوں سے انہیں قبل از وقت رخصت کیا گیا ان سے زیادہ اہم بھی نہیں ہیں۔
آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کے طور پر بھی میجر جنرل کے عہدے سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے احمد شجاع پاشا کو لگایا گیا ہے۔ وہ بطور میجر جنرل ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ انہیں کبھی انٹیلی جنس سروس کا تو تجربہ نہیں ہے لیکن بطور ’ڈی جی ایم او‘ انہوں نے جہاں قبائلی علاقوں میں آپریشن کی نگرانی کی وہاں افغانستان اور بھارت کی سرحدوں کی بھی اپ ڈیٹ معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے بطور بریگیڈیئر لائیبریا میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی بھی کمانڈ کی تھی۔
احمد شجاع پاشا کی ترقی اور بطور آئی ایس آئی سربراہ تقرری کا جس دن اعلان ہوا عین اُسی روز انہوں نے صحافیوں کو بریفنگ بھی دی لیکن بالکل نہیں لگا کہ انہیں اپنی ترقی اور تقرری کی ہوا بھی لگی ہے۔ انیس سو چوہتر میں کمیشن حاصل کرنے والے پاشا کی بطور آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کی ہے۔
قانون کے مطابق آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہے اور آرمی چیف اس عہدے پر تعیناتی کے لیے وزیراعظم کو تین افسران کے نام پیش کرتے ہیں۔ ٹیکسیلا سے تعلق رکھنے والے احمد شجاع پاشا جنرل کیانی کے بااعتماد افسر ہیں۔ پاشا کا اکلوتا جواں سال بیٹا گزشتہ برس کار حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا۔
حالانکہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے دو میجر جنرلز محمد مصطفیٰ خان اور ایاز سلیم رانا کو جنرل کیانی نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی لیکن ان میں سے کسی کو آئی ایس آئی کا سربراہ نہیں بنایا گیا۔ تاہم انہوں نے انٹیلی جنس کا تجربہ رکھنے والے محمد مصطفیٰ کو فوج میں آرمی چیف کے بعد انتہائی اہم عہدے یعنی چیف آف جنرل سٹاف پر تعینات کیا ہے۔ جبکہ ایاز سلیم رانا کو ہیوی مکینیکل انڈسٹریز ٹیکسیلا کا سربراہ تعینات کیا گیا ہے۔
یہ دونوں افسران آئی ایس آئی میں جنرل کیانی کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان کے با اعتماد افسران سمجھے جاتے ہیں۔
![]() |
|
| لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج کو کور کمانڈر گجرانوالہ لگایا گیا ہے |
میجر جنرل نصرت نعیم کی ترقی نہ ہونے کی ایک وجہ اپنے عہدے کے اختیارات کا مبینہ غلط استعمال بتایا جاتا ہے۔ ان کے خلاف اسی سالہ سابق بریگیڈیئر محمد تاج نے جولائی سن دو ہزار چھ میں صدر پرویز مشرف کو خط لکھ کر شکایت کی تھی کہ بچوں کے آپس میں جھگڑنے کی بنا پر میجر جنرل نصرت نعیم نے آئی ایس آئی کے اہلکاروں سے بھری چار گاڑیاں بھیج کر ان کے پوتے کو مبینہ طور پر اغوا کرایا تھا۔ صدر مشرف نے بریگیڈیئر تاج کو تحقیقات کرانے اور متعلقہ افسر کو سزا دینے کا دلاسہ بھی دیا تھا۔ لیکن عمل کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ امکان ہے کہ میجر جنرل نصرت نعیم کا جلد آئی ایس آئی سے تبادلہ ہوجائے گا کیونکہ وہ دو سال سے زیادہ عرصے سے وہاں کام کر رہے ہیں۔
کراچی کے نئے کور کمانڈر مقرر ہونے والے شاہد اقبال کو بھی میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنایا گیا ہے۔ وہ پہلے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں چیف انسٹرکٹر تھے۔