http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 30 September, 2008, 22:06 GMT 03:06 PST

ذیشان ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

اسلام آباد: عید پر میریئٹ حملے کا سایہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بازاروں میں عید کی رات خریدار تو تھے لیکن ان پر دس روز پہلے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے کے اثرات ابھی تک موجود تھے۔

منگل کے رات حکومت کی طرف سے عید بدھ کے روز منانے کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں بسنے والے لوگوں نے بازاروں کا رخ تو کیا لیکن رش معمول سے بہت کم تھا۔

جناح سپر مارکیٹ میں ریڈی میٹ کپڑے فروخت کرنے والے دوکاندار عمران نے بتایا کہ ’کل عید ہے لیکن کوئی خریدار نہیں ہے، میریئٹ کے واقعے کے بعد لوگوں نے مارکیٹ آنا بہت کم کر دیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار بم دھماکے کے بعد پچاس فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ بیس ستمبر کو اسلام آباد کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے میریئٹ ہوٹل پر ایک خودکش ٹرک حملہ ہوا تھا جس میں تریپن افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

دوکان داروں سے بات کرنے کے بعد جب مارکیٹ میں خریداری کرنے والوں سے بات کی تو فریال خاتون نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے اس لیے خریدار کم نظر آ رہے ہیں، دوسرا ہمارے ذہنوں میں ابھی تک میریئٹ خودکش حملے کے خوفناک مناظر ہیں اس لیے ان کے خیال میں رش معمول سے بہت کم ہے۔

ایک خریدار فیض اللہ کے مطابق ہمارے حکمران جب تک دوسروں کی جنگ لڑتے رہیں گے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ملک میں دھماکے ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ عید جمعرات کے روز ہو گی اور اب رات گیارہ بجے بتایا ہے کہ عید کل ہو گئی۔

ایک اثر شخص باسط نے بتایا کہ میریئٹ خودکش حملے کے بعد بھی خبریں میڈیا پر آتی رہیں کہ اتنے دہشت گرد شہر میں داخل ہو گئے اور اب لوگوں میں ذہنوں میں یہ ہے کہ دوبارہ کچھ نہ ہو جائے۔

چھوٹی سی بچی علیزے نے نے بتایا کہ انھوں نے میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے کے مناظر ٹی وی سکرین پر دیکھے تھے جس کے بعد انہیں مارکیٹ آتے ڈر آتا ہے۔ علیزے نے سوال کیا کہ کیا یہ دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی ۔

واضع رہےکہ وزارت داخلہ کی طرف سے ملنے والی ہدایات کے مطابق خودکش حملوں کے خطرے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے اہم شہروں میں نماز عید مساجد میں ادا کی جائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بازاروں میں دوکان دار خریداروں کے نہ ہونے سے پریشان ہیں جبکہ مارکیٹ میں موجود خریداروں پر دہشت گردی کا ڈر ہے۔