Tuesday, 30 September, 2008, 06:52 GMT 11:52 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’لے جا میرا بھائی ! امپورٹڈ کیمرہ صرف ساڑھے تین سو روپے میں۔ عید مناؤ، تصویریں بناؤ، لے جا میرا بھائی! صرف تین سو پچاس روپے میں۔‘
بوہری بازار صدر کی مصروف شاہراہ سے پیدل گزرتے میں ہی نہیں کئی اور لوگ بھی اس آواز پر رکے اور سڑک کے کنارے کھڑے اس ٹھیلے والے کی جانب بڑھنے پر مجبور ہوئے جس پر ڈبہ پیک کیمروں کے انبار کے بیچ بیٹھا باریش نوجوان یہ صدا لگا رہا تھا۔
کیمرہ وزن میں بہت ہلکا تھا اور لگتا تھا کہ پلاسٹک کا بنا ہوا ہے لیکن اسکی فنشنگ بڑی کمال کی تھی۔ ’کیا یہ واقعی تصویر کھینچتا ہے؟‘
شاید ٹھیلے والا میرے اسی سوال کا منتظر تھا۔ ’سامنے اسٹوڈیو ہے، ابھی رول ڈلوالو، چیک کرلو، پندرہ منٹ میں رزلٹ مل جائے گا آپ کو۔‘
میں نے دنیا کے سب سے سستے لیپ ٹاپ کے بارے میں تو سنا تھا جو کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ نے دنیا کے غریب ملکوں کے لیے متعارف کرایا
تھا اور اس سستی ترین کار کے بارے میں بھی جو بھارت کی ایک کمپنی نے بنانے کا اعلان کیا ہے، لیکن اتنا سستا کیمرہ میں نے پہلی
بار دیکھا تھا۔
![]() |
|
| لوگ اس پر بھی بھاؤ تاؤ کرتے ہیں |
کیمرے پر ایک معروف کمپنی کا نام لکھا تھا لیکن محمد یاسین نے اس بات کی ضمانت دینے سے انکار کردیا کہ وہ اسی کمپنی کا بنایا ہوا ہے۔
’ڈبے پر میڈ ان ملائیشیاء لکھا ہوا ہے، ہمیں تو جس پارٹی نے دیا ہے وہ ہی جانتی ہے کہاں کا بنا ہوا ہے، ہم تو پارٹیوں سے لاتے ہیں، بڑی بڑی پارٹیاں ہیں جو یہ لاٹیں خریدتی ہیں۔‘
محمد یاسین نے بتایا کہ اس کی روز کی اچھی بکری ہوجاتی ہے، خاص کر ان دنوں جبکہ عید نزدیک ہے۔ ’اللہ کا شکر ہے بیس پچیس کیمرے
نکل جاتے ہیں پر ڈے (یومیہ)۔ عید کے موقع پر زیادہ سیزن ہوتا ہے کیمروں کا، کیونکہ خوشی کا تہوار ہوتا ہے تو لوگ تصویریں کھینچتے
ہیں، گھروں میں، پارکوں میں تفریح گاہوں میں جب گھومنے جاتے ہیں۔‘
![]() |
|
| سو روپے میں چار گھڑیاں بھی مل جاتی ہیں |
اور بیشتر لوگ یہی کرتے ہیں۔
ایمپریس مارکیٹ کے قریب ٹھیلے پر گھڑیاں فروخت کرنے والے محمد عمر کہتے ہیں ’چائنا والوں کو دعائیں دینی چاہیں کہ انہوں نے ہمیں گھڑیاں مہیا کردی ہیں اور وہ بھی اتنی سستی ورنہ مجھے یاد ہے ہم پہلے بچپن میں گھڑیوں کے لیے ترستے تھے لیکن آج کل کے بچوں کو یہ چیزیں مہیا ہورہی ہیں، یہ چائنا کا احسان ہی ہے سمجھ لیں۔‘
عمر کے ٹھیلے پر بچوں کی رنگ برنگی گھڑیوں کے علاوہ بڑی عمر کے لوگوں کی دیدہ زیب گھڑیاں بھی سجی ہوئی تھیں۔
’لے جا میرا بھائی ! امپورٹڈ کیمرہ صرف ساڑھے تین سو روپے میں۔ عید مناؤ، تصویریں بناؤ، لے جا میرا بھائی! صرف تین سو پچاس روپے میں۔‘
عمر کے اسٹال سے کچھ فاصلے پر قریب ہی سوات سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد سلیم نے دھوپ کے چشموں کا اسٹال لگایا ہوا تھا۔ چینی مصنوعات کی مقبولیت کی اس کی اپنی توجیح تھی۔ ’پاکستان میں اس لیے غربت ہے کیونکہ پاکستان کچھ بنا ہی نہیں سکتا اس لئے سب کچھ چائنا کا چل رہا ہے پاکستان میں۔‘
اس نے بتایا کہ اس کے پاس پچیس روپے سے ڈیڑھ سو روپے تک کا چشمہ دستیاب ہے اس کے باوجود لوگ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں۔
’سستے والا بھی ہوتا ہے مہنگا والا بھی ہوتا ہے، دن میں دس پندرہ چشمے بک جاتے ہیں، زیادہ تر غریب لوگ خریدتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں غریب غریب سے غریب تر ہورہا ہے اور امیر امیر سے امیر تر۔‘ سلیم میرے سوال کے جواب میں اپنی بھڑاس بھی نکال رہا تھا۔
غربت کا پہلا نشانہ معیار زندگی ہوتا ہے اسی لیے شاید ان بازاروں کا رخ کرنے والے بہت سے لوگوں کے لیے اشیاء کے معیار کی اہمیت
بھی نہیں۔
![]() |
|
| بازار چائناکے مال سے بھرے پڑے ہیں |
لیکن اس کے باوجود عمر کے بقول اس بار عید کی خریداری معمول سے بہت کم ہے۔
’لوگوں میں اب شوقیہ چیزوں کی خریداری کا رجحان نہیں ہے۔ لوگ اب زیادہ تر گھر کے کچن پر ہی توجہ دیتے ہیں، مہنگائی نے کمر ہی توڑ دی ہے غریبوں کی، اب بندہ گھر کا خرچ چلائے گا یا شوق پورے کرے گا۔ پہلے جو تین چار جوڑے سلوا لیتے تھے اب وہ دو جوڑوں پر آگئے اور جو دو جوڑے سلواتے تھے وہ ایک جوڑے پر آگئے۔‘
میں نے جیسے اس کے دل کی بات کردی تھی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
’بازاروں میں رش تو ہے لیکن لوگ اس طرح خریداری نہیں کررہے جیسے پہلے کیا کرتے تھے۔ پہلے پندرہ رمضان کے بعد یہ کاروبار بڑھ جاتا تھا اب کاروبار نہیں بڑھ رہا، یہ سمجھ لو کہ عید میں تین چار دن رہ گئے ہیں اگر کل بائی چانس یہ کاروبار چل گیا تو چل گیا ورنہ نہیں چلے گا۔‘
میں سستی چیزیں پیش کرنے والے ان بازاروں سے واپس آتے سوچ رہا تھا کہ اب تو چائنا کا مال بھی غریب کو سہارا دینے سے قاصر ہوتا جارہا ہے۔