Monday, 29 September, 2008, 08:21 GMT 13:21 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں بارود سے بھری تین گاڑیوں کو سکیورٹی فورسز نےگن شپ ہیلی کاپٹر سے نشانہ بنایا ہے۔ حکام نے دو خودکش حملہ اور کے ہلاک ہونے کا دعوی کیا ہے۔
مردان میں ایک سی ڈیز کی دوکان میں دھماکے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کو اورکزئی ایجنسی کے علاقے فیروز خیل میں مبینہ طورپر بارود سے بھری تین گاڑیوں کو سکیورٹی فورسز نےگن شپ ہیلی کاپیٹر سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجہ میں حکام نے دو خودکش حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق بارود سے بھری تینوں گاڑیاں بھی دھماکے سے مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں۔
ایک اعلی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں گاڑیاں اورکزئی سے خیبر ایجنسی کے راستے پشاور میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔تاکہ عید کے موقع پر پشاور میں ایک بڑا دھماکہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ادھر ضلع مردان میں شہر کے اندر واقع چاٹو چوک کے قریب ایک مارکیٹ میں سی ڈیز کے دوکان میں بم کا ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں بم نصب کرنے والا ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ایک دوکان مکمل طور پر تباہ جبکہ تین دوکانوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
پولیس کے مطابق لاش کو پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے جن کی عمر بیس بائیس سالہ نوجوان ہے۔تاھم ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ادھر اپر دیر میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں دو دوکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ضلع سوات میں بھی حکام نے گزشتہ روز مینگورہ سمیت تمام علاقوں سے کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سوات سے اطلاعات کے مطابق پیر کو مقامی طالبان نے سوات میں یک طرفہ فائربندی کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کارروائی نہ کرنے کی صورت میں وہ یک طرفہ فائربندی پر عمل کریں گے۔