Saturday, 27 September, 2008, 21:59 GMT 02:59 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
صوبہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی نصیر آباد اور جعفر آباد کے سرحدی علاقوں میں فرنٹیئر کور نے سنیچر کی صبح سرچ آپریشن شروع کیا جہاں مسلح مزاحمت کاروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ایف سی کے کم سے کم دو اہلکاروں اور سات مزاحمت کاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ ایف سی کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
یہ کارروائی سوئی کے علاقہ گنڈوئی اور نصیر آباد کے علاقہ چھتر کے سرحدی علاقوں میں کی جا رہی ہے۔ سرکاری زرائع نے بتایا ہے کہ سنیچر کی کارروائی میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک اورچار زخمی ہوئے ہیں جبکہ ادھر مسلح افراد کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سلیم نواز نے کہا ہے کہ جمعہ کی رات سوئی میں گنڈوئی کے مقام پر مسلح افراد نے ایف سی کی چوکی پر حملہ کیا جس میں ایف سی کے چار اہلکار زخمی ہوئے، جس کے بعد چھتر اور اوچ کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ جس علاقے میں کارروائی کی جا رہی ہے یہاں سے قومی تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اور انھوں نے یہ کارروائی جوابی کارروائی کے طور پر کی ہے۔
اس کارروائی میں ایف سی کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جھڑپیں رات دیر تک جاری رہی ہیں۔
ادھر اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ ایف سی اہلکاروں سے ان کی جھڑپیں ہوئی ہیں اور شام تک جاری تھیں۔
سرباز بلوچ نے دعوی کیا ہے کہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد واپس جانے والے ایف سی کے اہلکاروں پر انھوں نے حملہ کیا جس میں ایف سی کے اہلکارو ں کا بھاری جانی نقصان ہوا لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سرباز بلوچ کے مطابق انھیں ہلاکتوں کی اطلاع ایف سی کے مواصلاتی نظام سے ہوئی ہیں۔
سرباز بلوچ سے جب پوچھا گیا کہ انھوں نے مسلح کارروائیاں نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی اس پر قائم ہیں لیکن جب ان کے خلاف یا بلوچوں کے خلاف بلااشتعال کوئی کارروائی ہوگی تو وہ اس کا جواب ضرور دیں گے۔
یاد رہے جمعہ کی شام کوئٹہ کے پاس ایف سی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک خاتون کو ہلاک اور ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا ۔