Thursday, 25 September, 2008, 12:02 GMT 17:02 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر دو افراد کو سرِ عام کوڑے مارے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے دو پولیس اہلکاروں اور ایک مقامی شخص کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق کوڑے مارنے کا واقعہ جمعرات کی صبح ننگولئی بازار پیش آیا جہاں طالبان نے دو افراد کو درجنوں لوگوں کے سامنے پچیس پچیس کوڑے مارے۔
طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان دو افراد نے مبینہ طور پر’ ایک مردہ بھینس‘ کو ایک قصاب کو فروخت کیا جسے بعد میں عام لوگوں کو بیچ دیا گیا۔
ان کے مطابق قصاب کو قرآن پاک پر قسم کھانے کے بعد معاف کر دیا گیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھینس کو حلال سمجھ کر خریدا تھا۔یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل بھی سوات کی تحصیل مٹہ میں طالبان نے سینکڑوں افراد کی موجودگی میں دو افراد کو چوری کے الزام کے تحت ’شرعی سزا‘ دی تھی۔
ادھر حکام کے بقول جمعرات کی صبح صدر مقام مینگورہ میں موٹر سائیکل پر سوار دو پولیس اہلکار معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے انہیں موقع پر ہلاک کردیا۔اس کے علاوہ مسلح افراد نے چہار باغ میں انور خان نامی شخص کو بھی قتل کردیا ہے۔ سوات کے مقامی طالبان نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
سوات میں پاکستانی فوج نے جیٹ طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپخانے سے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے مگر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں لوگوں کو سرِ عام سزاؤں سے طالبان کی قوت اور فوجی آپریشن کے مؤثر ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔