Thursday, 25 September, 2008, 13:07 GMT 18:07 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بیس ستمبر کو میریئٹ ہوٹل پر بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیے گئے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سکیورٹی گارڈز کے اہل خانہ سے زبانی کلامی ہمدردی تو سبھی کر رہے ہیں لیکن تاحال کسی نے بھی متاثرہ گارڈ کے اہل خانہ کی مالی اعانت نہیں کی نہ تو حکومت نے ان سے رابطہ کیا، نہ ان کے آجر ادارے نے اور نہ ہی ہوٹل انتظامیہ نے۔
نجی محافظوں نے جس ہمت اور جرات کا مظاہرہ کیا اس پر ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت انہیں اعلیٰ سویلین اعزازات سے نوازے، تاکہ اس پیشے سے وابستہ دوسرے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
میریئٹ ہوٹل کے مرکزی دروازے پر تعینات گارڈ جس طرح بارود سے بھرے، جلتے ہوئے ٹرک کی آگ بجھاتے رہے اور حملہ آور کی جانب سے مبینہ طور پر بھاگ جانے کی ترکیب کے باوجود بھی اپنی جان کی پروا کیے بنا دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کی اس کی مثال شاید ہی ملے۔
حکومت، ہوٹل انتظامیہ، قراقرم سکیورٹی کمپنی اور عینی شاہدین اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ اگر یہ نجی محافظ بارود سے بھرے ٹرک کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرکے اور اس کا ٹائر پھاڑ کر روکنے میں کامیاب نہ ہوتے تو یہ ٹرک ہوٹل کی دیوار سے ٹکرا جاتا اور وہ تباہی ہوتی جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔
اگر ایسا ہو جاتا تو وہاں آج تک شاید ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام ہو رہا ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوٹل کے عقب میں واقع گلشن جناح کے دو سو فلیٹس میں رہنے والے تقریباً ایک ہزار افراد کا بھی زندہ بچنا شاید مشکل ہوتا۔
پانچ سے چھ ہزار کی تنخواہ پر کام کرنے والے ان جرات مند نجی محافظوں کے بچوں کی پرورش اور امداد کے لیے حکومت اور ہوٹل انتظامیہ
کی جانب سے اعلانات تو ہو چکے لیکن ان پر عمل تاحال نہیں ہوسکا۔
|
تنخواہیں اور اضافی معاوضہ
|
متاثرہ سکیورٹی گارڈز کی ہمت اور جرات کا تذکرہ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں ہو رہا اور شہری حقوق کے بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں میڈیا کو واچ ڈاگ کا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس وقت تک حکومت، ہوٹل انتظامیہ اور متعلقہ سکیورٹی کمپنی کے ذمہ داران کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے جب تک بے گناہ مارے گئے متاثرین کے اہل خانہ کی امداد کا مناسب انتظام نہیں ہوتا۔