http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 25 September, 2008, 17:11 GMT 22:11 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

حکام سے عاصمہ جہانگیر کی اپیل

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نےصوبہ سرحد کےضلع سوات میں انسانی حقوق کی صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ سویلین آبادی کی ناگفتہ بہ صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا کرنے سے گریز کریں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ایک طرف تو مقامی آبادی کو دہشت گردوں کی طرف سے شدید خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف بجلی، گیس اور پانی کے نظام میں پڑنے والے تعطل، اشیائے خوردونوش کی شدید کمی اور طویل کرفیو کے دورانیوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

ان کے بقول انسانی حقوق کی ایسی صورت حال میں سوات کے عوام کا مینگورہ میں مظاہرہ کرنے کا فیصلہ ان کی جرات اور مایوسی کا بولتا ثبوت ہے جس کے لیے وہ عزت و احترام کے مستحق ہیں نہ کہ انددھند فائرنگ کے۔

انہوں نے سیکورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے ایک ہجوم پر فائرنگ کے نتیجے میں قمیتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا ان ہلاکتوں سے انسانی حقوق کمیشن کو بہت صدمہ پہنچا ہے۔ کمیشن کی چیئرپرسن کا کہنا ہے کہ سوات میں انسانی زندگی کے احترام کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے صوبہ سرحد میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے موثر قوت کے استعمال کی تائید کرتے ہوئے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ سویلین آبادی کی ناگفتہ بہ صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا کرنے سے گریز کریں۔

عاصمہ جہانگیر کے بقول فوجی کارروائی کے نتیجے میں سویلین آبادی کو پہنچنے والے نقصانات کو ممکنہ حد تک کم از کم سطح پر رکھا جائے اور اندران ملک بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات کا لگن اور خلوص کے ساتھ ازالہ کیا جائے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لیے یواین ایچ سی آر اور آئی سی آر سی کی مدد حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔