Wednesday, 24 September, 2008, 10:54 GMT 15:54 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کوئٹہ میں چھاؤنی کی داخلی چوکی کے قریب فرنٹیئر کور کی گاڑیوں کے پاس مبینہ خود کش دھماکے سے ایک بچی ہلاک اور دس اہلکار سمیت سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر ارائیں نے بتایا ہے کہ گورا قبرستان کے پاس چھاؤنی جانے کے لیے قائم فوجیوں کی مرک چوکی پر فرنٹیئر کور کی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ اچانک ایک شخص ایک گاڑی کے ڈرائیور گیٹ کے پاس آیا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
زخمیوں کو چھاؤنی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور سول ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ سول ہسپتال سے ڈاکٹر جعفر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس آٹھ زخمی لائے گئے جن میں پانچ بچیاں اور ایک بچہ شامل تھے۔ ایک بچی دم توڑ گئی ہے۔
واقعے کے بعد فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صحافیوں سمیت کسی کو متعلقہ مقام تک جانے نہیں دیا جا رہا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ تیرہ فوجی اور ایف سی اہلکاروں کو زخمی حالت میں سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے۔
کوئٹہ میں عام شہریوں کو اجازت نامے کے بغیر چھاؤنی جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ چھاؤنی سے فوجی بھی کم ہی شہر کی طرف آتے ہیں۔
یاد رہے چار روز پہلے جمعہ کے دن اسی روڈ پر بلیلی کے قریب ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں طالب علموں اور اساتذہ سمیت کم
سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔
![]() |
|
| جمعہ کو ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں طلبہ اور اساتذہ سمیت کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے |
اس کے علاوہ پولیس کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دھماکہ مدرسے میں پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہو اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ دھماکہ خیز مواد پھینک کر فرار ہو گئے تھے لیکن اس کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس نے کچھ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرا نے کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔