Wednesday, 24 September, 2008, 06:34 GMT 11:34 PST
آصف فاروقی
بی بی سی ارودڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف صوبہ سرحد کی حکومت کی دائر کردہ درخواست پر بجلی کی قیمت کا تعین کرنے والے ادارے سے جواب طلب کرتے ہوئے نرخوں میں اضافے کے خلاف حکم امتناعی میں بیس روز کی توسیع کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت میں بجلی کے نرخوں میں وفاق کی جانب سے اضافے کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے سرحد حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انکے صوبے میں غربت باقی ملک کی نسبت بہت زیادہ ہے لہٰذا وہاں بجلی کے نرخوں میں اعلان کردہ اکتیس فیصد اضافہ نہ کیا جائے۔
گزشتہ سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کو اس بارے میں عبوری ریلیف دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو تاحکم ثانی صوبہ سرحد کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بدھ کو جب سماعت شروع ہوئی تو سرحد حکومت کے وکیل نے اپنا سابقہ مؤقف دہرایا جس پر عدالت نے بجلی کی قیمت کا تعین کرنے والے ادارے نیپرا اور وفاقی حکومت سے جواب طلبی کرتے ہوئے حکم امتناعی میں تیرہ اکتوبر تک توسیع کر دی۔
واضح رہے کہ باقی ملک میں بجلی کے نرخوں میں یہ اضافہ رواں ماہ سے لاگو ہو چکا ہے۔
بجلی کی فراہمی کے بعض دیگر اداروں نے بھی بجلی میں اضافے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے لیکن انہیں صوبہ سرحد کی طرح ریلیف نہیں مل سکا۔