Tuesday, 23 September, 2008, 06:46 GMT 11:46 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
ضلع سوات میں نامعلوم افراد نے گیس پلانٹ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے پورے سوات کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔
دوسری طرف کوہاٹ میں حکام نے گزشتہ رات سے جاری فوجی کارروائی میں پچاس شدت پسندوں کے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
میجر مرادنے کا کہنا تھا یہ ہلاکتیں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر گولہ باری اور گن شیپ ہیلی کاپیٹروں کی شلینگ سے ہوئی ہے۔
لیکن ان ہلاکتوں پر مقامی طالبان کی جانب سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوئی ہے۔
کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں بھی فوج نے مقامی طالبان کےخلاف بڑے پیمانہ پر کارروائی شروع کر دی ہے۔
سوات کی صورت حال پر پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح سوات کے علاقے بلوگرام میں نامعلوم افراد نے گیس پلانٹ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس پلانٹ میں دھماکے کے بعد پورے سوات کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے دو دن قبل سوات گرڈ اسٹیشن کو بھی دھماکے سے تباہ کردیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے سوات میں بجلی معطل ہوگئی ہے۔
واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ بجلی بحال ہونے میں ایک مہینہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ بجلی بند ہونے کے بعد علاقے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
میجر مراد نے کہا کہ ادھر فرنٹیئر ریجن کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانہ پر کارروائی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں توپخانے کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں فوج کے علاوہ ایف سی کے دستے بھی شامل ہیں۔