http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 23 September, 2008, 12:12 GMT 17:12 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

میریٹ: سکیورٹی ناکام رہی: فضل

حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کو میریٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے میں سکیورٹی کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور اُن کو ایسے بیانات دینے سے گُریز کرنا چاہیے جو حکومت اور خود اُن کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنیں۔

منگل کو عمرہ سے واپسی پر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ اس واقعہ میں کون سے ہاتھ کار فرما ہیں اور کیا اُن کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے یا کہیں اور سے۔

انہوں نے کہا کہ میریٹ ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی چند دنوں میں نہیں ہوئی ہوگی بلکہ اس میں سال بھر تک لگا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اب ثابت ہوگئی ہے کہ شدت پسندوں کا نشانہ ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاوس نہیں بلکہ یہ ہوٹل تھا۔

انہوں نے کہا کہ اُن کی جماعت نے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں میں جنگ بندی کردے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف بنائی گئی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جائے کیونکہ وہ پالیسی فرد واحد کی تھی اور فوجی قیادت بھی یہ تسلیم کر رہی ہے کہ یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا۔

قبائلی عمائدین سے مذاکرات
 قبائلی عمائدین کے سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے قبائلی عمائدین کے ساتھ بات کرسکتے ہیں تواس وقت تو وہ حکومت میں شامل ہیں
 
مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ قبائلی عمائدین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے قبائلی عمائدین کے ساتھ بات کرسکتے ہیں تواس وقت تو وہ حکومت میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 23 جولائی کو ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اتحادی جماعتوں کے علاوہ فوجی قیادت موجود تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان لوگوں کے سے مذاکرات کیے جائیں گے لیکن ابھی تک اس پر عملدرامد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ حکومت پاکستان کی جنگ لڑ رہی ہے، ایک سیاسی بیان ہو سکتا ہے۔