Monday, 22 September, 2008, 11:03 GMT 16:03 PST
پاکستان کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی اعلٰی ترین قیادت سنیچر کو دھماکے سے تباہ ہونے والے میریئٹ ہوٹل میں رات کے کھانے پر جمع ہونا تھی لیکن آخری وقت پر یہ فیصلہ تبدیل کر دیاگیا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس میریئٹ ہوٹل کے مالک صدرالدین ہاشوانی نے پیر کو مشیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’۔۔۔۔۔ہرگز نہیں یہاں تو کوئی بُکنگ ہی نہیں ہوئی تھی۔‘
سینیچر کی شام ہونے والے اس دھماکے میں پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق کم از کم ترپّن افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئےجن میں متعدد غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
دریں اثناء تباہ کن بم حملے کی ذمہ داری فدائیانِ اسلام نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ بی بی سی کو پاکستان کے ایک موبائل سے موصول ہونے والے ٹیکسٹ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے اس دھماکے سے امریکی میرینز، امریکی اہلکاروں اور نیٹو کے اعلیٰ افسران سمیت ڈھائی سو فوجیوں کے وفد کو نشانہ بنایا ہے‘۔
ادھر پولیس نے بظاہر میریئٹ دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں گجرانوالہ سے دو اماموں سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ جنوبی پنجاب سے بھی پانچ افراد گرفتار ہوئے ہیں۔
ادھر نامہ نگار علی سلمان نے خبر دی ہے کہ بظاہر میریئٹ دھماکے کی تحقیقات کے تسلسل میں پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نےگجرانوالہ میں دو اماموں اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں مطلوب ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔چھاپہ مار ٹیم کے اراکین کی تعداد چالیس کے قریب تھی اور وہ دس گاڑیوں پر آئے تھے۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انٹیلیجنس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جنوبی پنجاب سے بھی پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد سے یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بم حملے کا نشانہ بننے والے اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل کی عمارت پر گزشتہ دو روز سے جاری امدادی سرگرمیاں ختم کر دی گئی ہیں اور تباہ ہونے والی عمارت کا کنٹرول ہوٹل انتظامیہ کو واپس کر دیا گیا ہے۔
ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ اس سے قبل روڈ لوف نامی امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق سینیچر کی شب ہی ہو گئی تھی۔