Sunday, 21 September, 2008, 08:47 GMT 13:47 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے مشیر داخلہ نے اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں کو ایک وڈیو دکھائی جس میں انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے گیٹ پر سپاہی اور سکیورٹی اہلکار آخر تک باورد سے بھرے ٹرک میں دھماکے کو روکنے اور آگ بجھانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ فلم ایک کلوز سرکٹ کیمرے سے بنائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ اسلام آباد میں ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہلاک ہونے والوں میں چیک جمہوریہ کے سفیر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تریپن اور زخمیوں کی تعداد دو سو چھیاسی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری دھماکے کے بعد رات گئے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے بعد اتوار کی صبح امریکہ روانہ ہوگئے جہاں وہ اقوام
متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ صدر جارج بش سے ملاقات بھی کریں گے۔
|
|
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے عزم کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پاکستان میں جمہوریہ چیک کے سفیر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
میریئٹ ہوٹل میں ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن’ کے انچارج ڈاکٹر محمد علی کے مطابق ساری رات جاری رہنے والی آگ کے بعد اس بات کا کوئی
امکان باقی نہیں رہ گیا کہ ہوٹل کی عمارت سے انہیں کوئی زندہ فرد مل سکے گا اسی لیے اب ان کا کام لاشوں کی تلاش تک ہی باقی رہ
گیا ہے۔
![]() |
|
| آگ کی شدت کے باعث ایک موقع پر عمارت کے اندر درجہ حرارت چار سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا |
ڈاکٹر محمد علی کے مطابق دوپہر بارہ بجے تک پانچ منزلہ عمارت میں لگی آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا تاہم چوتھی منزل سے اس وقت بھی دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا۔
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس خودکش بم حملے میں ایک ہزار کلو گرام کے قریب دھماکہ خیز مواد کے علاوہ ایسا کیمائی مادہ بھی استعمال کیا گیا جس سے ہوٹل کی عمارت کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
محمد علی نے بتایا کہ آج صبح ملنے والی لاشوں میں ایک ویت نام کی شہری خاتون بھی شامل ہے جو دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی۔
امدادی ٹیم کے انچارج کے مطابق ’اس خاتون سمیت بہت سے افراد اس پانچ منزلہ عمارت میں پھنس کر اس لیے ہلاک ہوگئے کیونکہ عمارت سے
ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے۔یہ ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے عمارت کی بالائی منزلوں سے
چھلانگیں بھی لگائیں۔’
|
میرئیٹ دھماکہ
|
امدادی کارکنوں کے علاوہ ہوٹل کی عمارت میں آج صبح سے تحقیقاتی اداروں کے اہلکار بھی موجود ہیں۔ ان کی آمد سے قبل متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تمام غیر متعقلہ افراد بشمول میڈیا کے نمائندوں کو ہوٹل کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔
ان تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے۔ یہ نمونے اکٹھے کرنے والوں میں غیر ملکی بھی دیکھے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ سنیچر کی شب ہونے والے اس دھماکے کے فوراً بعد وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں
سول اور فوجی تحقیقاتی اداروں کے افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقات کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ابتدائی رپورٹ آج حکومت کو فراہم کرنے
کا پابند کیا گیا تھا۔
![]() |
|
| عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے |
سنیچر کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن اسلام آباد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں پر انگلی اٹھائی جارہی ہے جن کے خلاف پاکستانی فوج کارروائیاں کررہی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ شہری دفاع کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ
دھماکے کے بعد انہوں نے عمارت کی پہلی دو منزلوں کی تلاشی لی تھی تاہم وہاں سے تمام افراد نکل چکے تھے لیکن اوپر کی تین منزلوں
کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔
![]() |
|
| ہوٹل کے ارد گرد کے علاقوں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں |
دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے سنیچر کوصحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں۔‘
اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔