Friday, 19 September, 2008, 13:28 GMT 18:28 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے دو معزول ججوں سمیت چار ججوں کو سپریم کورٹ کے جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی اور اس ضمن میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
وزارت قانون کے سکریٹری آغا رفیق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان ججوں میں سپریم کورٹ کے دو معزول ججز جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصر الملک جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز جن میں جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سرمد جلال عثمانی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جج صاحبان سنیچر کے روز صدر آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے حلف اُٹھائیں گے۔
نئی تعیناتی کے بعد جسٹس سردار رضا خان موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج بن جائیں گے جبکہ مقامی میڈیا پر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی لگنے کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو اس پر اعتراض تھا کیونکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد وہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج تھے۔
سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس آئندہ سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔
جسٹس صبیح الدین کو جو کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگنے کے بعد معزول کردیا گیا تھا جبکہ
سرمد جلال عثمانی نے چند روز قبل ہی سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حثیت سے حلف اُٹھایا تھا۔
سپریم کورٹ کے ان ججوں کے حلف اُٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کے صرف چھ معزول جج باقی رہ گئے ہیں۔ اُن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس چوہدری اعجاز، جسٹس فلک شیر اور جسٹس راجہ فیاض شامل ہیں۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو جج باقی ہیں جنہوں نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد حلف نہیں اُٹھایا تھا ان میں مقبول باقر اور مشیر عالم شامل ہیں۔