Thursday, 18 September, 2008, 08:13 GMT 13:13 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز کے مبینہ میزائل حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی اور اس طرح کے یک طرفہ حملوں سے حالات کی بہتری میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
’مائیکل مولن کا بیان اصل امریکی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم اس کی عزت کرتے ہیں۔‘
وزیر خارجہ نے اس تاثر کی نفی کی کہ انہیں اس کارروائی کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں بائیس ستمبر سے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والا پاکستانی وفد وہاں امریکی حکام سے اس موضوع پر بات کرے گا۔
’ہم ضرور پوچھیں گے کہ آخرامریکہ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے پہلے سے طے شدہ اصولوں کی پاسداری
کیوں نہیں کر رہا۔‘
|
پاسداری کیوں نہیں؟
|
یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں بدھ کی شام امریکی جاسوس طیاروں نے باغڑ کے علاقے میں چار میزائل داغے تھے جن سے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
وزیر خارجہ کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ بھی امریکی پالیسی کی نہ چاہتے ہوئے بھی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان عناصر موجود ہیں جن سے امریکیوں کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
’ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کریں اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور ہمیں ایک طویل مدتی پالیسی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔‘
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بائیس سے چھبیس ستمبر کے نیو یارک کے دورے کے دوران صدر کی دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں طے کی
جا رہی ہیں۔ صدر اس موقع پر جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کریں گے۔
|
یقین دہانی
|
انہوں نے بتایا کہ اس ماہ کی اواخر میں ایک پاکستانی وفد کشمیر میں تجارت میں اضافے کے لیے مذاکرات کے لیے جائے گا جبکہ ان کی خواہش ہے کہ مظفرآباد کے چیمبر کا وفد بھی تجارت بڑھانے کے لیئے جلد سرینگر کا دورہ کرے۔
بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی بندش کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اس پر بھارتی حکومت سے رابطے جاری ہے اور اسلام آباد میں نائب بھارتی سفیر نے انہیں صورتحال پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے۔