http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 16 September, 2008, 08:39 GMT 13:39 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کے بارے متعلق پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔

کشمیر کمیٹی کے ڈائریکٹر سلطان احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کمیٹی کے چیئرمین کے چناؤ کے لیے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی میں بڑی سیاسی جماعتوں کے اکتیس ارکان نے شرکت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پیر آفتاب شاہ نے مولانا فضل الرحمن کا نام بطور چیئرمین تجویز کیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے آفتاب شیخ نے اُن کی حمایت کی۔

کشمیر پر جلد خوشخبری
مولانا فضل الرحمن کے مقابل کسی دوسرے رکن قومی اسمبلی نے اپنے کاغدات جمع نہیں کروائے جس کے بعد وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔

اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی رانا اسحاق نے یہ نکتہ اُٹھایا کہ میڈیا میں یہ خبریں آ رہی ہیں کہ برطانوی حکومت نے مولانا فضل الرحمن پر برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ایک ایسی شخصیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں عالمی برادری اور بلخصوص یورپی ممالک میں اس مسئلے کو کیسے اُجاگر کر سکتی ہے۔ تاہم انہیں بتایا گیا کہ اس ضمن میں برطانوی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔

محنت و افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی امور کے وزیر سید خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس طرح کی کوئی پابندی لگتی بھی ہے تو اس کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں حکومت پاکستان کی جو سیاسی جدوجہد ہے وہ نہیں رُک جائے گی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں جو کشمیر پالیسی بنائی گئی تھی اُس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

مولانا فضل الرحمن اس سے پہلے بےنظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں اس وقت سعودی عرب میں ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی 46 قائمہ کمیٹیاں ہیں جن میں سے خارجہ امور اور پانی و بجلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کا انتخاب بدھ کے روز کیا جائے گا۔