Sunday, 14 September, 2008, 00:36 GMT 05:36 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے غیر معینہ مدت تک مسلح کارروائیاں روکنے کے باوجود دو ایسے افراد پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں جن کے بارے میں ایک کالعدم تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سرکار کے مخبر رہے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے رات گئے مرو کے علاقے میں نور علی بگٹی نامی ایک شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا لیکن پولیس اہلکار اس واقعہ کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔
دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ انہوں نے نور علی بگٹی کو ہلاک کر دیا ہے۔ سرباز بلوچ نے بتایا کہ نور علی بگٹی سرکار کا مخبر تھا اور بلوچ مزاحمت کاروں کے بارے میں اطلاعات سرکار کو پہنچاتا تھا۔
سرباز بلوچ نے کوئی دس روز پہلے سوئی کے تحصیل بازار میں وڈیرہ تاج محمد پر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے حملہ کرنے کی ذمہ داری بھی اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ اس حملے میں وڈیرہ تاج محمد، ان کے بھائی اور بھتیجے زخمی ہو گئے تھے۔
بلوچستان میں اس ماہ کی پہلی تاریخ کو تین کالعدم تنظیموں بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نے متفقہ طور پر مسلح کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بی آر اے کے ترجمان سرباز بلوچ کا کہنا ہے کہ مسلح کارروائیاں تو بند رہیں گی لیکن سرکار کے مخبروں پر حملے جاری رہیں گی۔ سرباز بلوچ نے کہا کہ ان لوگوں پر حملے جاری رہیں گے جن کی وجہ سے بلوچ مزاحمت کار ہلاک ہوئے ہیں اور یا کسی مشکل میں گرفتار رہے ہیں۔