http://bbc.com.im/urdu/

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاک افغان تعلقات یونہی رہیں گے

تحریکِ طالبان پاکستان اس تحریکِ طالبانِ افغانستان کے بطن سے پیدا ہوئی تھی جس کا جنم گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کےحملوں سے سات برس پہلے ہوا تھا۔

افغانستان میں طالبان کا ظہور مجاہدین گروہوں کی لاقانونیت کے ردِ عمل میں کچھ شدت پسند پاکستانی مذہبی مدارس اور آئی ایس آئی کی مدد سے بینظیر حکومت کے وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر کی نگرانی میں سعودی عرب کے توسط سے امریکہ کے علم میں لائے جانے کے بعد ہوا تھا۔

گیارہ ستمبر کا حملہ اور پاکستان کا حال

جس طرح امریکہ کو وسطی ایشیائی نوآزاد سابق سوویت ریاستوں میں شخصی حکومتوں، افریقہ کی ایک جماعتی آمریتوں اور برما جیسی کہنہ سال فوجی جنتا پر کوئی اعتراض نہیں ۔اسی طرح امریکہ کو تحریکِ طالبان کے ابھرنے اور افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام پر قطعاً کوئی اعتراض تھا اور نہ ہی اسے روس، بھارت اور ایران کے برعکس احمد شاہ مسعود ، برہان الدین ربانی اور رشید دوستم وغیرہ پر مشتمل شمالی اتحاد سے کوئی دلچسپی تھی۔

طالبان اور گیس پائپ لائن
 امریکہ کو افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام پر قطعاً کوئی اعتراض تھا بلکہ امریکہ تو اس بات کا منتظر رہا کہ طالبان جلد از جلد پورے افغانستان پر قبضہ کرلیں تاکہ امریکی تیل اور گیس کمپنیوں کو وسطی ایشیا سے بھارت تک گیس اور تیل پائپ لائن بچھانے کے ٹھیکے میسر آسکیں
 

بلکہ امریکہ تو اس بات کا منتظر رہا کہ طالبان جلد از جلد پورے افغانستان پر قبضہ کرلیں تاکہ امریکی تیل اور گیس کمپنیوں کو وسطی ایشیا سے بھارت تک گیس اور تیل پائپ لائن بچھانے کے ٹھیکے میسر آسکیں۔اگر طالبان اتنے ہی خونخوار اور مغرب دشمن ہوتے جتنے کہ آج بتائے جا رہے ہیں تو کم ازکم متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے امریکی اتحادی انکی حکومت کو تسلیم نہ کرتے اور نہ ہی انہیں پاکستان کے توسط سے امداد و رہنمائی فراہم کرتے۔

یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہتا اگر اسامہ بن لادن بیچ میں نہ کود پڑتا اور سوڈان سے اٹھ کر افغانستان میں پناہ نہ لیتا۔اسامہ کو مکمل یقین تھا کہ قبائلی روایات کے مطابق اس کے میزبان جان تو دے سکتے ہیں لیکن مہمان کو دشمن کے حوالے نہیں کرسکتے۔

امریکہ کے لئے یہ بات بھی قابلِ برداشت تھی کہ نیروبی اور دارلسلام میں امریکی سفارتخانوں پر بارودی حملوں اور یمن کے ساحل کےقریب یو ایس ایس کول سے بارودی کشتی ٹکرانے کے بعد بھی اسامہ اور اس کے ساتھی بطور مفرور افغانستان کی حدود میں ہی رہیں۔لیکن پھر نائن الیون ہوگیا اور اس واقعہ نے وہ میز ہی الٹ دی جس پر شطرنج کھیلی جا رہی تھی۔امریکی فوج کشی اور بمباری سے وہ جار ٹوٹ گیا جس میں دہشت گردی کا زہر بھرا ہوا تھا اور پھر یہ زہر عراق سے باجوڑ تک پھیل گیا اور پھیلتا چلا جارہا ہے۔

اگر پچھلے باسٹھ برس کی تاریخ دیکھی جائے تو افغانستان اور پاکستان کسی نے کسی معاملے پر ہمیشہ سینگ آزمائی میں مصروف رہے ہیں۔ سن ستر کی دھائی تک اگر متنازعہ ڈیورینڈ لائن اور پختونستان کا مسئلہ تھا تو سن اٹھہتر کے بعد سے افغانستان میں کیمونسٹ انقلاب کا ردِ عمل دونوں ممالک کے لئے وجہ نزاع رھا۔ جب سرخ انقلاب لپٹ گیا تو مجاھدین کے مختلف دھڑوں اور پاکستانی مفادات کے مابین رسہ کشی ابھر کر سامنے آگئی۔

جب طالبان افغانستان پر قابض ہوئے تو بھی طالبان کی متنازعہ داخلی پالیسیاں قندھار حکومت اور اسلام آباد کے درمیان وقتاً فوقتاً کشیدگی کا سبب بنتی رھیں۔ کہنے کو افغانستان میں کبھی بھی طالبان سے زیادہ پاکستان نواز حکومت سامنے نہیں آئی لیکن پاکستان اس حکومت سے بھی ڈیورنڈ لائن تسلیم کرانے میں ناکام رہا۔ اور پھر طالبان کے زوال کے بعد جو امریکہ نواز حکومت آئی اسے بھی پاکستان سے وہی شکائیتیں رہیں جو سوویت نواز افغان حکومتوں کو تھیں۔

لیکن دونوں ممالک میں چاہے کسی بھی نوعیت کے حالات ہوں۔جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی بندھن نے دونوں کو ایسے جڑواں بچوں میں تبدیل کر رکھا ہے کہ وہ لڑائی بھڑائی کے باوجود بھی نہ تو ایک دوسرے کے بغیر رھ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ۔ نائن الیون کے ہونے نہ ہونے سے اس بنیادی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہ تو آئی ہے اور نہ آئے گی۔