Thursday, 11 September, 2008, 09:44 GMT 14:44 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو روزانہ قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا ذکر پڑھنے کو ملتا ہے۔ کہیں دس تو کہیں بیس ہلاک جبکہ زخمیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ قبائلی علاقوں میں جنگ جاری ہے بلکہ پھیلتی جا رہی ہے۔
سات برس قبل امریکہ میں ٹوئِن ٹاورز پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقے تو شدت پسندی سے متاثر تھے ہی حالیہ برسوں میں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقے بھی اس کے نرغے میں آچکے ہیں۔ دو تین اضلاع ہی ایسے ہوں گے جہاں طالبان کی سرگرمیاں نہیں دیکھی جا رہیں، باقی تمام صوبہ اس سے متاثر ہے۔
اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو بھی اس بڑھتی ہوئی ’طالبانائزیشن’ کا احساس ہے۔ نئے صدر
آصف علی زرداری اعتراف کرچکے ہیں کہ اس وقت شدت پسندوں کو برتری حاصل ہے۔ تاہم حلف اٹھانے کے فوراً بعد انہوں نے اپنے اس عزم کا
اظہار کیا کہ وہ شدت پسندوں کو ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔
|
|
جاسوس طیاروں کی مسلسل پروازوں کے ذریعے امریکہ اسامہ یا مولوی عمر کو تو اب تک نہیں ڈھونڈ پایا ہے لیکن بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے وقتاً فوقتاً قبائلی علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں حالیہ دنوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ایسے تازہ چار حملوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں مبینہ طور پر موجود دہشت گردی کے نیٹ ورک کے روابط بیرون ملک بھی بدستور ظاہر ہو رہے ہیں۔ لندن میں گزشتہ دنوں عدالت
میں کچھ افراد کو قصوروار قرار دیا گیا جو دو ہزار چھ میں پرواز کے دوران طیارے تباہ کرنے کے مقدمات میں ملزم تھے۔ ان افراد کے
تانے بانے ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان سے جوڑے گئے ہیں۔ لیکن ان پر طیارے تباہ کرنے کی سازش کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
|
|
آج صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان کے ایک لاکھ سے زائد فوجی افغان سرحد پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن زیادہ کوشش اس کی ملک کے اندر
شدت پسندی کو روکنے پر مرکوز ہے۔ وہ باجوڑ اور سوات میں لڑ رہی ہے تاہم القاعدہ کی تلاش اور خاتمے کا مشن اس نے امریکہ کے حوالے
کر دیا ہے۔ وہی بغیر پائیلٹ کے طیاروں یا پھر جہاں ضرورت ہو انگور اڈا کی طرز پر زمینی کارروائی بھی کرنے لگا ہے۔
|
|
قبائلی علاقوں کی کوریج محض فریقین کے بیانات اور دعووں کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ نہ تو حکومت اور نہ ہی طالبان کی شاید خواہش ہے کہ اصل صورتحال سے دنیا آگاہ ہوسکے۔
امید کی ایک کرن اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ اراکین پارلیمان حکومت سے بار بار انہیں بند کمرے کے اجلاس میں ہی بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت بھی اس اہم موضوع پر ایوان میں بحث کے حق میں ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ایسی کسی تیاری کے آثار نہیں ہیں۔
دو ہزار ایک سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے کے آثار پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ حالات صرف خراب ہی ہوئے ہیں۔ ایسے میں شدت پسندی پر مستقبل قریب میں جلد قابو پانے کے امکانات کم ہی ہیں۔