Wednesday, 10 September, 2008, 17:55 GMT 22:55 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے پہاڑی ضلع دیر میں اطلاعات کے مطابق مسجد میں دستی بموں کے حملوں میں کم سے کم چھ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی صحافیوں نے ہلاک و زخمیوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ لوئر دیر کے ایک پہاڑی علاقے مسکینہ درہ ثمر باغ میں بدھ کی رات پیش آیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ مسجد میں تراویح پڑھ رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے مسجد پر دستی بموں سے حملہ کیا۔
ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکوں کے بعد مسجد میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی جس سے وہاں بگدڑ مچ گئی اور نمازی ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
مقامی لوگوں کے مطابق دھماکوں میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی صحافیوں نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔ ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں۔
ایک مقامی صحافی سید امجد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تیمرگرہ ہپستال میں پندرہ زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں تین کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔
تاحال دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
واضح رہے کہ دیر قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے سرحد پر واقع ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس علاقے میں مقامی لوگوں نے عوامی جرگوں کے ذریعے سے طالبان پر دباؤ ڈال کر ان کو علاقے سے نکال دیا تھا۔ علاقے میں طالبان کے خلاف سرگرم کالعدم تحریک نفاذ شریعتی محمدی کے ایک اہم رہنما اور مولانا صوفی محمد کے دست راست مولانا محمود جان کو نامعلوم مسلح افراد نے بیٹے سمیت ایک حملے میں ہلاک کیا تھا۔