http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 10 September, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

سرحد: نئے صدارتی انتخاب کا مطالبہ

سرحد اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے موقع پرعوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے ارکان کی طرف سے اپنا ووٹ ڈالنے سے قبل بیلٹ پیپر سب کے سامنے، ایک دوسرے کو دکھانے کے اقدام کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

رٹ درخواست میں صدر پاکستان آصف علی زرداری، ناکام امیدوار سعید الزمان صدیقی، مشاہد حسین، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پریذائڈنگ افسر، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی سمیت تمام اراکین سرحد اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

رٹ میں استدعا کی گئی ہے کے چھ سمتبر کو سرحد اسمبلی میں ہونے والے انتخابات کے ووٹنگ کو کالعدم قرار دیا جائے، نئے انتخابات کرائے جائیں اور الیکن کمیشن آف پاکستان ووٹ ڈالنے والوں کے خلاف خفیہ طور پر انکوائری شروع کرے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سکریٹری اطلاعات محمد معظم بٹ ایڈوکیٹ کی طرف سے دائرکردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت صدارتی انتخابات ہوئے اور چھ سمتبر کو سرحد اسمبلی میں بیلٹ پیپر سرعام پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹ کو دکھائے جاتے رہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے علاوہ وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی، صوبائی وزراء بشیر احمد بلور، میاں افتخار حسین اور ارشد عبد اللہ سمیت دیگر تمام نے اپنے ووٹوں پر مہر لگانے کے بعد پی پی پی کے پولنگ ایجنٹ کو ووٹ دکھائے جس کو الیکٹرک میڈیا نے پوری قوم کو دکھایا۔

واضح رہے کہ صدراتی انتخاب کے ایک دن بعد نجی ٹی وی چینل جیو پر ایک کارروائی کی فِلم دکھائی گئی جس میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ کے دوران سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی سمیت اے این پی، پی پی پی اور دیگر جماعتوں کے کئی اراکینِ سرحد اسمبلی اپنا ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالنے سے پہلے دور سے ایک دوسرے کو دکھا رہے ہیں۔