Tuesday, 09 September, 2008, 10:36 GMT 15:36 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئین کی سترہویں ترمیم اور پارلیمان توڑنے کے صدر کے صوابدیدی اختیار کو ختم کرے۔
نواز شریف نے لندن روانگی سے پہلے لاہور کے علامہ اقبال ائرپورٹ پر میڈیا بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اسے یہ موقع دیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر قانونی اور آئینی اقدام میں حکومت کا ساتھ دیں گے کیونکہ وہ اسے مستحکم بنانا چاہتے ہیں لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سنہ تہتر کے آئین کے مطابق چلے۔
نواز شریف نے کہا کہ ’ہمارے اور پیپلز پارٹی کے درمیان جمہوریت کے استحکام کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی موجود ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کا ایشو ختم نہیں ہوا ہے اور ججوں کی بحالی ان کا نظریاتی مؤقف ہے جس پر وہ قائم ہیں۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ نے کہا کہ جس طریقے سے ججوں کو بحال کیا جا رہا ہے وہ بحالی نہیں بلکہ نئی تعیناتیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے اس مطالبہ کو دہرایا کہ ججوں کو دو نومبر سنہ دوہزار سات کی پوزیشن پر بحال کیاجائے۔
میاں نوازشریف نے پنجاب حکومت سے پیپلز پارٹی کےوزراء کی علیحدگی کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس بارے میں پیپلز پارٹی سے بات کر لیگئی ہے اور اب اقدام انہوں نے اٹھانا ہے۔
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف لندن میں اپنی اہلیہ کے علاج کی غرض سے کم از کم ایک ہفتہ قیام کریں گے۔
انہوں نے کہا صدراتی انتخاب کے معاملے میں وہ پیپلز پارٹی کو ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں، آصف زرداری ایک جمہوری طریقے سے صدر منتخب ہوئے ہیں اور کسی ڈکٹیٹر کی طرح آ کر نہیں بیٹھ گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساٹھ برس میں سے چونتیس برس فوجی آمریت نگل گئی۔ فوجی آمروں نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت پھیلی، زمینیں بنجر بنا دی گئیں، آٹا بجلی کے بحران پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہی ترقی کا راستہ ہے اگر مارشل لاء ترقی کا زینہ ہوتے تو چین اور بھارت میں بھی لگتے۔