Sunday, 07 September, 2008, 09:28 GMT 14:28 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بلوچستان میں پانچ خواتین کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر زندہ دفن کیے جانے کے واقعہ کی تحقیق کے لیے مقرر کردہ انکوائری کمیشن کےسربراہ کا کہنا ہے کہ وہ قانونی معاملات کی وجہ سے اس کیس کی تفتیش نہیں بلکہ صرف نگرانی کر سکتے ہیں۔
اعلٰی اختیاراتی کمیشن کے سربراہ طارق کھوسہ نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مشیر داخلہ نے لاعلمی کے باعث انکی سربراہی میں ایک اعلٰی اختیاراتی کمیشن کے قیام اور اس کی بلوچستان روانگی کا اعلان کیا تھا اور جب ان کے سامنے قانونی پوزیشن رکھی گئی تو انہوں نے قانون کے مطابق اس میں تبدیلی کر لی ہے۔
مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے ارکان پارلیمنٹ کے احتجاج کے بعد سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اس کمیشن کی تشکیل اور بلوچستان روانگی کا اعلان کیا تھا۔
نیشنل پولیس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کی سربراہی میں بننے والے اس اعلٰی اختیاراتی کمیشن کو ان پانچ خواتین کے قتل کے بارے میں تحقیق کے لیے مکمل اختیارات دیے گئے تھے۔ ان میں متعلقہ افراد اور بلوچستان پولیس کے تفتیشی افسروں سے انٹرویوز بھی شامل تھے۔
جولائی میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں پسند کی شادی کی کوشش کرنے والی ان خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ میں بعض اہم
صوبائی شخصیات کا نام لیا جا رہا تھا جنکی نشاندہی سب سے پہلے انسانی حقوق کی ایشائی تنظیم (ایشین ہیومن رائٹس کمیشن) نے کی تھی۔
![]() |
|
| میں قانون کے تحت اس قسم کی تفتیش میں مداخلت نہیں کر سکتا |
طارق کھوسہ نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی اسلام آباد سے ہی نگرانی کریں گے اور بلوچستان پولیس کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ اپنی تفتیش سے روزانہ کی بنیاد پر انکے دفتر کو آگاہ رکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اس قتل کی تفتیش کے دوران ملنے والی کیمیائی شواہد (فورنزیک) کے بارے میں بھی بلوچستان حکومت کی رہنمائی کریں گے۔
طارق کھوسہ کے مطابق پولیس قواعد کے مطابق صرف بلوچستان پولیس ہی اپنے صوبے میں ہونے والے قتل کی تفتیش کی مجاز ہے اور اس بارے میں وفاقی حکومت کو کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ’میں قانون کے تحت اس قسم کی تفتیش میں مداخلت نہیں کر سکتا اور میرا اختیار صرف بلوچستان میں پہلے سے پولیس کی قائم کردہ دو مختلف ٹیموں کی تحقیق کے بارے میں ملنے والی رپورٹس سے اسلام آباد کو آگاہ کرنے تک محدود ہے‘۔