Sunday, 07 September, 2008, 06:32 GMT 11:32 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں غیرت کے نام پر دس مردوں اور ستاون خواتین کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق ستر سے اسی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔
ان تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں اب اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کو چاہیے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
نصیر آباد میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں طور پر پیش کی گئی۔ اس واقعہ کی تصدیق اب تک نہیں ہو سکی اوراب تک صرف دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں جنہیں بغیر کفن کے اپنے کپڑوں میں ایک گڑھے میں ڈالا گیا تھا ۔ باقی تین خواتین کی لاشیں کہاں ہیں۔ یہ سوال ہر ایک کی زباں پر ہے۔
پولیس افسر غلام شبیر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو خواتین تھیں جنہیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
نصیر آباد سے پولیس حکام نے ابتدائی طور پر اس واقعہ کے بارے میں بتایا تھا کہ زمین کے تنازعے پر یہ قتل ہوا ہے اور اب گرفتار
افراد نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے سیاہ کاری کے الزام میں ان خواتین کو ہلاک کیا ہے۔
|
کارو کاری
|
ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو قانون کے مطابق سب کچھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس وقت موقع پر لوگوں سے پوچھا کہ اگر وہ اپنے گھر کی کسی خاتون کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھیں تو وہ کیا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی طور اس مقدمے میں اثر انداز نہیں ہو رہے۔
کوئٹہ میں دو روز پہلے غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ سندھ اسمبلی
کے علاوہ سینیٹ میں اس واقعہ کے مذمت کی گئی لیکن بلوچستان اسمبلی میں اس بارے میں کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔
![]() |
|
علاؤالدین خلجی کا کہنا ہے کہ نصیر آباد کے واقعہ میں ان کی اطلاعات کے مطابق پانچ خواتین کو مارا گیا ہے اور پھر یہ تحقیق کیے بغیر کہ وہ مر گئی ہیں یا نہیں انہیں دفن کر دیا گیا۔
مقامی سطح پر اس بارے میں حقائق سامنے نہیں آرہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات
ہو رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے سربراہ ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ کسی اور وجہ سے کسی کو قتل کرنے کے بعد لوگ
اسےغیرت کے نام پر قتل قرار دے دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون میں کسی واقعہ کو دیکھ کر اشتعال میں آجانے یعنی سڈن پرووکیٹو کا قانون ہے لیکن بیشتر لوگ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی دشمنیاں اور بدلے لیتے ہیں۔
ماہرین اور عام لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں ایسے واقعات زیادہ ہو تے ہیں وہاں تعلیم کا فروغ اور لوگوں کے معاشی مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے۔