Saturday, 06 September, 2008, 00:56 GMT 05:56 PST
پاکستان میں نئے صدر مملکت کے انتخاب کے لیے آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور شام تک نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
صدر کے عہدے کے لیے تین امیدوار میدان میں ہیں: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئر پرسن عاصف علی زرداری، مسلم لیگ نواز کے جسٹس رٹائرڈ سعید الزمان صدیقی اور مسلم لیگ ق کے مشاہد حسین۔
لیکن عام خیال یہ ہی ہے کہ مسٹر زرداری بہ آسانی منتخب ہوجائیں گے۔
وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کا دعویٰ ہے کہ ان کے امیدوار آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے اور انہیں پانچ سو صدارتی
ووٹ ملیں گے۔
جبکہ وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو پونے پانچ
سو سے پانچ سو تک ووٹ ملنے کی توقع ہے۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پولنگ صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گی اور پولنگ ختم ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔
پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوگی جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنی اپنی اسمبلی میں منعقد پولنگ میں ووٹ ڈالیں گے۔
صدر کے انتخاب کا جو الیکٹورل کالج ہے اس کے کل ووٹوں کی تعداد گیارہ سو ستر بنتی ہے لیکن صدارت انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کا جو فارمولا ہے اس کے مطابق کل صدارتی ووٹ سات سو دو بنتے ہیں۔
ادھر مظفر آباد سے نامہ نگار ذولفقار علی کے مطاق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مسٹر آصف علی زرداری کے حق میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے۔
پیپلز پارٹی کے مخالف حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔
کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پاکستان کے صدر کے انتخابی کالج کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اخلاقی حمایت دینے کے لیے منطور کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے خلاف جمعہ کو پریس کلب سے پارلیمنٹ لاجز تک احتجاجی جلوس نکالا۔
پارٹی کے سربراہ عمران خان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری صدر منتخب ہونے کے بعد این ار آو بچانے کے لیے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال نہیں کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت آصف زرداری کو صدر بنانے کے جرم میں شریک نہیں ہو گی کیونکہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی عدلیہ اور سترہویں آئینی ترمیم کی موجودگی میں وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے بھی طاقتور صدر بن جائیں گے۔