Friday, 05 September, 2008, 08:28 GMT 13:28 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویزنے اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھا لیا ہے۔
گورنرہاؤس پشاور میں جمعہ کی دوپہر منعقد ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے پشاور کے معزول
چیف جسٹس طارق پرویز سے دوبارہ حلف لیا۔اس موقع پر ہائی کورٹ کے دو معزول ججز جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس شاہ جہاں خان بھی موجود
تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس شاہ جہاں خان بھی بہت جلد اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیں گے جبکہ معزول جج اعجاز افضل کی جانب سے دوبارہ حلف لینے سے انکار کے بعد انہیں قائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔
حلف برداری کی اس مختصر تقریب میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، صوبائی وزراء رحیم داد خان،بشیر احمد بلور اور بیرسٹر ارشد عبداللہ کے علاوہ ججوں کی بحالی کی تحریک میں فعال درجن بھر سے زیادہ وکلاء نے بھی شرکت کی۔
حلف برداری کی تقریب کے اختتام کے بعد دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے وہی قائدین چیف جسٹس طارق پرویز سے بغلگیر ہوکر دوبارہ حلف لینے پر مبارکبادیں دیتے رہے جو عام انتخابات سے قبل احتجاجی جلوس کی صورت میں ان کی رہائش جاکر انہیں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے پر مبارکباد اور داد دیتے تھے۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین لطیف آفریدی نے معزول چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے دوبارہ حلف لینے کے فیصلےکا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے اس طریقے سے ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء کا موقف واضح ہے کہ تین نومبر کا اقدام غیر آئینی تھا اور جن ججوں کو معطل کیا گیا تھا انہیں دوبارہ حلف لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں وزیراعظم حکمنامے کے ذریعے بحال کر سکتے ہیں۔ لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ معزول ججوں نے قربانیاں دی ہیں اور وکلاء ان کی عدالتوں کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔