http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 03 September, 2008, 13:32 GMT 18:32 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

سوات کارروائی میں تیس ہلاک

صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات میں حکام نے دعوی کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک تازہ کاروائی میں طالبان کے ایک اہم مرکز پر حملے میں پچیس سے تیس عسکریت پسندوں ہلاک جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان نے حکومتی دعوے کی تردید کی ہے۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی لوگوں کے پرزور مطالبے پر آج صبح سکیورٹی فورسز نے کوزہ بانڈئی میں طالبان کے خلاف ایک بڑے کاروائی کا اغاز کیاجس میں پیدل فوج اور توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ آپریشن میں پچیس سے تیس عسکریت پسندوں ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے جبکہ کوزہ بانڈئی میں طالبان کے چند اہم مراکز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان ان مراکز سے سوات میں کاروائیاں کرتے تھے جبکہ ان جگہوں پر لوگوں کو بھی سزائیں دی جاتی تھیں۔

تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے فوج کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کی بمباری میں زیادہ تر عام لوگوں کے گھر نشانہ بنے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بھی زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کاروائی میں ان کا کوئی طالب جنگجو ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔

ادھر بدھ کی صبح فوجی کاروائی شروع ہونے سے پہلے سکیورٹی فورسز نے سوات بھر میں غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا اور لوگوں کو کوزہ بانڈئی سے فوری طورپر نکل جانے کا حکم دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے اچانک علاقہ خالی کرنے کے حکم سے لوگ افرتفری کا شکار ہوئے اور کئی لوگ بچوں اور خواتین سمیت چیک پوسٹوں میں پھنس کررہ گئے۔