Tuesday, 02 September, 2008, 13:44 GMT 18:44 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں اطلاعات کے مطابق میں بمباری سے دس شہری اور پندرہ طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
ان اطلاعات کے مطابق بمباری سکیورٹی فورسز کے طیاروں نے کی۔ جس میں چالیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
آزاد ذرائع نے آٹھ شہریوں کے ہلاک اور پینتالیس کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بتایا ہے کہ منگل کو گٹ پیو چار کے علاقے پر بمباری میں پندرہ طالبان جنگجو مارے گئے۔ انہوں نے شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔
دوسری طرف طالبان کے ترجمان نے حکومتی دعوے کی تردید کی اور کہا کہ اس بمباری سے دس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
سوات میں ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح جیٹ طیاروں نے وقفے وقفے سے طالبان
کے گڑھ سمجھے جانے والی دشوارگزار وادی گٹ پیوچار کو مسلسل فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔
ان کے بقول ان حملوں میں چار خواتین سمیت آٹھ شہری ہلاک جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔حکومتی اہلکار نے مزید بتایا کہ فضائی
حملوں میں طالبان کے ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں کئی جنگجوؤں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں میں مقامی آبادی بھی نشانہ بنی ہے۔
طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو فون کر کے دعوٰی کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کا کوئی ساتھی شامل نہیں ہے۔
گٹ پیوچار طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور دیگر طالبان جنگجوؤں کی ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔