Tuesday, 02 September, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں کے واقعے میں تاخیری حربوں سے کام نہیں لیا گیا۔
بی بی سی اردو لندن سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں پی پی پی کے قائدِ ایوان نے کہا کہ وہ ایوان میں بھی اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ اس واقعے سے پی پی پی کے کسی عہدیدار کا کوئی تعلق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جیسے ہی اس واقعے کی تفصیلات کا علم ہوا ہم نے اس کی شدید مذمت کی اور یہ بات سب پر واضح ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی شہید چئرپرسن خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ آگے آگے رہی ہیں اور آج بھی پارٹی کا یہی موقف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اس واقعے کے بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس کی رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے۔ واقعے کی از سرِنو انکوائری کی جا رہی ہے اور دو لاشوں کو نکالا بھی جا چکا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے پیپلز پارٹی کے اس تشخص کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ خواتین کے حقوق کے علم بردار ہے لیکن بیرون ملک پاکستان کی ساکھ کو چھوٹا سا دھچکا ضرور لگ سکتا ہے۔