Tuesday, 02 September, 2008, 08:05 GMT 13:05 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ شام سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں ہلاک ہونے والے نو افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پرگولہ باری کی ہے۔
گولہ باری کے ایک عینی شاہد حاجی فیض اللہ نے بتایا کہ ہلاک شدگان کی نمازِ جنازہ عنایت کلی بازار میں ادا کی گئی جس میں علاقے کے مشران اور تاجروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ گولہ باری میں ایک ہی گھر کے آٹھ افراد مارے گئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جبکہ ایک بچہ دوسرے گھر میں ہلاک ہوا تھا۔
تاہم پولیٹکل انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ بتائی تھی۔ باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی شام چند مسلح طالبان چھ گاڑیوں میں عنایت کلی آئے تھے اور وہاں ٹیلی فون کے کیبل کاٹ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اطلاع ملنے پر سکاؤٹس قلعہ خار سے توپ خانے سے حملہ کیا جس دوران ایک گولہ گھر پر گرنے سے پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ادھر سکیورٹی فورسز نے منگل کو بھی مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا تاہم گولہ باری میں نقصانات کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت کی گئی ہے جب حکومت نے رمضان المبارک کے احترام میں تمام قبائلی علاقوں اور سوات میں پیر کے روز سے تمام تر کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز پر حملے کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کی جائےگی۔
حکومت نے اعلان کیا تھا کہ رمضان المبارک کے احترام میں تمام قبائلی علاقوں اور سوات میں چالیس دن تک آپریشن معطل رہے گا اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا تھا تاہم سوات کے طالبان نے اس جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو تمام علاقوں کی سطح پر مستقل جنگ بندی کرنی چاہیے۔