Monday, 01 September, 2008, 09:48 GMT 14:48 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
واہ کینٹ کی پولیس نے آرڈیننس فیکٹری بم دھماکوں کے ایک ملزم کو پیر کے روز راولپنڈی میں قائم دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر کے اسکا دس روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔
اکیس اگست کو واہ کینٹ میں واقع اسلحہ ساز فیکٹری کے باہر ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں ستر افراد ہلاک اور ایک سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
تھانہ واہ کینٹ کے انچارج انسپکٹر نے سخت حفاظتی انتظامات میں ہونے والی اس مختصر سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ ملزم کے مزید کچھ ساتھی مفرور ہیں جو ان دھماکوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس افراد اور دہشت گردی ملوث اس گروہ کے بارے میں اس ملزم سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔
عدالت نے پولیس کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے حمیداللہ کو مزید دس روز کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
حمیداللہ کو واہ کینٹ دھماکوں کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور دستی بم برآمد ہوئے تھے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے وقت ملزم کو بکتر بند گاڑی میں لایا گیا تھا اور پولیس نے اسکے سر اور چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ایک انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد ہے اور اسکا تعلق دہشت گردی کے مربوط نیٹ ورک سے ہے۔
مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے حمیداللہ کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے اور اس نے بھی واہ کینٹ میں تیسرا خودکش حملہ کرنا تھا لیکن آخری لمحے میں اس نے اپنا ارادہ تبدیل کر دیا۔ رحمٰن ملک کے مطابق حمیداللہ تفتیش کے دوران پولیس سے تعاون کر رہا ہے۔