Monday, 01 September, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کے سیاسی میدان میں صدارتی الیکشن کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کی مرکزی قیادت سرگرم نظر آتی ہیں۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ آصف علی زرداری کو صوبائی اسمبلی سے سو فی صد ووٹ حاصل ہوں تاکہ سیاسی برتری کے ساتھ اخلاقی برتری بھی حاصل ہوسکے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کوششوں کی کامیابی کے لیے گزشتہ دنوں کراچی کا دورہ کیا، جس میں اپوزیشن سمیت تمام اراکین اسمبلی سے ملاقات کی۔ اسی ملاقات میں ماضی کے شدید مخالف ارباب غلام رحیم پر دائر مقدمات ختم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
حکمران جماعت کی ان کوششوں کے توڑ کے لیے مسلم لیگ ق کی قیادت بھی سرگرم ہوئی اور اس نے سندھ کا دورہ کرکے اپنے پتے محفوظ کرنے کی کوشش کی، مگر صدارتی امیدوار مشاہد حسین اور پارٹی سربراہ چودھری شجاعت حسین کی یہ یاترا بظاہر کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی ۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سندھ سے سو فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کریں گے ’ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، انتقام اور تشدد کی سیاست کے ذریعے ووٹ لینے کی خواہش یا ارادہ نہیں رکھتے‘۔
سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں دو نشستیں خالی ہیں، اس لیے انتخاب میں ایک سو چھیاسٹھ اراکین حصہ لینے کے اہل ہیں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کو پچانوے، متحدہ قومی موومنٹ کو اکیاون، مسلم لیگ فنکشنل کو آٹھ، مسلم لیگ ق کو نو، عوامی نیشنل پارٹی کو دو اور نیشنل پیپلز پارٹی کی تین نشستیں ہیں۔ مسلم لیگ ق کے نو میں سے تین اراکین فارورڈ بلاک میں شامل ہیں۔
صدارتی انتخاب کے لیے سندھ اسمبلی کے چونسٹھ ووٹ بنتے ہیں جن میں سے حکمران اتحاد کو اٹھاون ووٹ حاصل ہیں، جن میں پیپلز پارٹی
کے چھتیس اور ایم کیو ایم کے بیس ووٹ شامل ہیں، اس طرح مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک اور اے این پی کے مل کر دو ووٹ بنتے ہیں۔
|
سندھ اسمبلی میں ارکان کی پوزیشن
|
سندھ اسمبلی آصف علی زرداری کی صدارت کی حمایت کے لیے متفقہ قرار داد منظور کرچکی ہے، جس کی مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی بھی حمایت کرچکی ہے۔ مسلم لیگ ق کی حمایت قیادت کو ناگوار گزری تھی۔
سندھ میں صدارتی انتخاب میں سب سے کمزور جماعت مسلم لیگ ن نظر آتی ہے، جسے کسی رکن اسمبلی کی حمایت حاصل نہیں ہے، باوجود اس کے کہ میاں نواز شریف نے کراچی کی اردو آبادی سے تعلق رکھنے والے سابق جج سعیدالزمان صدیقی کو امیدوار نامزد کیا ہے۔
مقامی میڈیا میں تو یہاں تک لکھا گیا ہے کہ سعیدالزمان صدیقی کو نامزد کرکے مسلم لیگ ن نے ایم کیو ایم کی قیادت کو امتحان میں ڈال دیا ہے مگر ایم کیو ایم آصف علی زرداری کی حمایت کے موقف پر قائم رہی ہے۔ جس کے بعد میاں نواز شریف کے دوبارہ بیانات سامنے آئے کہ ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں ہوسکتا، اس سے قبل سعیدالزمان صدیقی ٹیلیفون پر الطاف حسین سے بھی رابطہ کرچکے تھے ۔
مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور صدارتی امیدوار مشاہد حسین نے کراچی میں پیر پگاڑہ ، متحدہ قومی موومنٹ اور این پی پی کی قیادت سے ملاقات کی مگر حمایت حاصل نہ ہوسکی۔
پیر پگاڑہ اور ان کے بیٹے صدرالدین شاہ راشدی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے قریبی رشتے دار ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم پیر پگاڑہ
سے ملاقات بھی کرچکے ہیں۔
|
پیر پگاڑہ کی سندھ سیاست
|
غلام مصطفیٰ جتوئی کی جماعت کا پیپلز پارٹی کے جانب دوستانہ رویہ دیکھا گیا ہے، اب صرف رہ جاتی ہے مسلم لیگ ق جس کے نو اراکین میں سے تین فارورڈ بلاک میں شامل ہیں، جبکہ باقی اراکین اسمبلی ارباب، مہر اور شیرازی گروپ میں بٹے ہوئے ہیں، جن میں سے صرف غوث بخش مہر سرگرم نظر آتے ہیں جن کے بیٹے شہریار رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔