Monday, 01 September, 2008, 17:06 GMT 22:06 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے باجوڑ میں اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں کیونکہ سکیورٹی فورسز نے اپنی تمام پوزیشنیں دوبارہ حاصل کر لیں ہیں اور مقامی طالبان وہاں سے فرار ہوچکے ہیں۔
بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اکثر شدت پسند وہاں سے بھاگ چکے ہیں۔ ’ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بال کٹوا لیے ہیں اور کھنچ کر پشاور آچکے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن اصل مسئلہ اب اس پیش رفت کو دوام دینے کا ہے کہ کوئی شدت پسند واپس نہ آئے۔ انہوں نے واضع کر دیا کہ شدت پسندوں کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی چاہے جتنی چھوٹی ہو، اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
رحمان ملک نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ فوجی کارروائی ایک ایسے وقت ختم کی گئی جب سکیورٹی فورسز کو ’اپر ہینڈ‘ حاصل تھا۔ ’یہ کارروائی ختم نہیں معطل کی گئی ہے جس کی بڑی وجہ رمضان کا احترام ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ بندی کی دوسری وجہ بےگھر ہوئے لوگ ہیں جو رمضان اپنے گھروں میں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق نقل مکانی
کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ ہے لہذا انہیں مجبور ہو کر ایسا کرنا پڑا۔
|
ایک بم کا جواب دس بموں سے
|
مشیر داخلہ نے باجوڑ میں ہی سلارزئی قبائلی کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی بھرپور مدد کرے گی۔ ’یہ ہماری ہی ایک کوشش ہے کہ مقامی قبائلی اور ملکوں کو اس بات پر آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے گاؤں کی حفاظت کریں۔‘