Sunday, 31 August, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک قبائلی لشکر نے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے پانچ گھروں کو نذرآتش کردیا ہے جبکہ عسکریت پسندوں کو پناہ دینے پر جرمانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
باجوڑ ایجنسی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح تحصیل سالارزئی میں سینکڑوں مسلح قبائل نے جمع ہوکر طالبان کے ایک کمانڈر سمیت پانچ جنگجوؤں کے گھروں کو تیل چھڑک کر آگ لگادی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نذرآتش کئے جانے والے گھروں میں طالبان کمانڈر مولوی نعمت اللہ، حاجی قادر اور حاجی جہانزیب کےگھر شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قبائل لشکر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس تھا جبکہ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔
اس سے قبل سلارزئی تحصیل میں تمام قبیلوں کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقے سے طالبان کو نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ جرگہ
نے اعلان کیا کہ علاقے میں غیر ملکیوں کو پناہ دینے والوں پر دس جبکہ مقامی طالبان کو پناہ دینے والوں پر دو لاکھ روپے جرمانہ
عائد کیا جائے گا۔
|
|
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ طالبان عوام سے جنگ نہیں چاہتے بلکہ بعض لوگ کسی کے اشارے پر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل سالارزئی تحصیل دو سرکردہ قبائلی مشران ملک زرین اور ملک بختاور ایک نامعلوم راکٹ حملے میں مارے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے دونوں مشران طالبان کے مخالف سمجھے جاتے تھے۔ اس حملے کے بعد قبائل نے طالبان کے ایک مرکز کو نذرآتش کیا تھا۔ تاہم طالبان قبائلی مشران کی ہلاکت سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
دریں اثناء طالبان نے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکاروں کو رمضان المبارک کے احترام میں آزاد کردیا ہے۔
طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہورہا ہے اس لئے اس مہینے کے احترام میں فرنٹیر کور کے چھ اہلکاروں کو قید سے آزاد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت چالیس کے قریب سکیورٹی اہلکار ان کے قبضہ میں ہیں جنہیں باجوڑ آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
یادرہے کہ ایک ہفتہ قبل طالبان نے باجوڑ ایجنسی میں یکہ طرفہ طورپر سکیورٹی فورسز کے خلاف تمام تر کاروائیاں بندکرکے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس جنگ بندی کو مسترد کیا تھا۔ گزشتہ روز حکومت نے اعلان کیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں رمضان المبارک کے احترام میں چالیس روز تک کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوگی۔