Friday, 29 August, 2008, 11:28 GMT 16:28 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ حکومت نے انسانی ترقی کے بارے میں قومی کمیشن این سی ایچ ڈی کے مستقبل کے بارے میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
جمعہ کے روز سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر یاسمین شاہ کے ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ اس ادارے سے تیس ہزار سے زائد لوگوں کو برطرفی کے نوٹس جاری کیےگئے ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکومت نے ان افراد کی تنخواہوں کی مد میں 874 ملین روپے مانگے تھے جبکہ فنانس ڈویژن نے اس ضمن میں 402 ملین روپے منظور کیے ہیں۔
سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف مستعفیٰ ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی باقیات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ پرویز مشرف کے مستعفیٰ ہونے کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے لیکن انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ سے تو استعفی دے دیا لیکن وہ ابھی تک این سی ایچ ڈی کے چیئرمین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
رضا ربانی نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے امریکی حکام سے پاکستانی وزارت خزانہ کو خط لکھوایا کہ این سی ایچ ڈی کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں۔ انہوں نے اس کو ملک کی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرکے اُن کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
پاکستان مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سعدیہ عباسی نے ڈاکٹر نسیم اشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے این سی ایچ ڈی کے لیے بےشمار فنڈز لیے جن کا کوئی آڈٹ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ گئے ہیں حتی کہ اُن کے سُسر بھی فوت ہوگئے لیکن وہ پھر بھی پاکستان نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔
ایوان میں حزب اختلاف کے ارکان نے سلمان فاروقی کی تعیناتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص کو ایک اہم عہدہ دیا گیا ہے جس پر کرپشن کے الزامات تھے۔
ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایسے افراد کو اہم عہدوں پر لائے جو قابل اور پروفیشنل ہوں۔
وزیر صحت شیری رحمان نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں تین کروڑ تیس لاکھ بچوں کو پولیو کے قظرے پلائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر
کو غلط قرار دیا کہ پولیو کے قطرے پینے سے بچوں میں مردانہ کمزوری ہوجاتی ہے۔