Friday, 29 August, 2008, 19:50 GMT 00:50 PST
ذیشان ظفر
اسلام آباد
پاکستان انیس لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو مزید دو سال تک قیام کی اجازت دینے پر اصولی طور پر رضا مند ہو گیا ہے تاہم تیس لاکھ غیر قانونی پناہ گزینوں کو کسی بھی وقت واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں جمعے کو ہونے والے سہہ فریقی اجلاس میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین، وفاقی وزیر برائے سرحدی امور نجم الدین اور افغان سفیر شیر محمد کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں پاکستان فریقین کی درخواست پر افعان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے پہلے سے طے شدہ دو ہزار نو کی ڈیڈ لائن میں مزید دو سال کی توسیع کرنے پر اصولی طور پر رضا مند ہو گیا ہے۔ تاہم باضابطہ اعلان وزیر اعظم سے منظوری کے بعد کیا جایے گا۔
واضع رہے کہ سنہ دو ہزار تین کو فریقین کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے مطابق پاکستان میں مقیم رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو دسمبر دو ہزار نو تک وطن واپس بھیجا جانا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق انیس لاکھ رجسٹرڈ اور تیس لاکھ غیر قانونی پناہ گزین پاکستان کے مختلف مہاجر کیمپوں میں قیام پذیر ہیں۔
افغان پناہ گزینوں سے متعلق کمیٹی کے آج سولویں اجلاس کے بعد بی بی سی بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سرحدی امور نجم الدین نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں حکومتِ افغانستان اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کا مؤقف تھا کہ افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث دو ہزار نو کے آخر تک مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈ لائن قابل عمل نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر ان کے روز
گار اور رہائش کا بندوبست نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں دو سال
کی توسیع کی جائے۔
|
|
وفاقی وزیر برائے سرحدی امور نجم الدین نے بتایا کہ پناہ گزینوں کی رضا کارانہ وطن واپسی کی دو ہزار نو کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا حتمی اعلان وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بنائی گی کابینہ کمیٹی میں جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ ملک میں موجود رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو سنبھالنا حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے اس لیے مزید پناہ گزینوں کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔
نجم الدین کے مطابق ’یہ وطن واپسی میں دو سال کی توسیع صرف رجسٹرڈ پناہ گزینوں کے لیے ہو گی جبکہ تیس لاکھ کے قریب غیر قانونی پناہ گزینوں کو کسی وقت بھی واپس بھیجا جاسکتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان مہاجرین کا بوجھ گذشتہ تیس سال سے اٹھائے ہوئے ہے لہٰذا آج کے اجلاس میں ہم نے مطالبہ کیا ہے
کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ادارے افعان پناہ گزینوں کے کیمپوں اوران کی دیگر ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے فنڈز
کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔
|
|
انہوں نے بتایا کہ دو ہزار تین میں ہونے والے معاہدے سے پہلے صرف ایک سال میں پندرہ لاکھ پناہ گزین واپس گئے تھے۔ لیکن افغانستان کے خراب حالات کی وجہ سے پچھلے دو سالوں میں خاص طور پر دو ہزار آٹھ میں دو لاکھ چونتیس ہزار کے لگ بھگ پناہ گزین واپس گئے ہیں۔
بابر بلوچ نے بتایا کہ پاکستان میں رہائش پذیر پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود اور روز گار دینے کے لیے یو این ایچ سی آر اس سال ایک سو پینتیس ملین ڈالر امداد دے گا جبکہ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر اگلے چند سالوں تک اس امداد میں بتدریج اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔
اس سے پہلے آج کے اجلاس میں افغان حکام نے کہا کہ پناہ گزینوں کی اکثریت شکایت کرتی ہے کہ پاکستانی سکیورٹی حکام انہیں رجسٹریشن کارڈ ہونے کے باوجود تفتیش کی لیے پکڑ لیتےہیں۔ انہوں نے کہا انہیں حراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔
اجلاس میں موجود وزارت داخلہ کے ایک نمائندے نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ سکیورٹی اداروں سے بات کریں گے۔
سہہ فریقی کمیٹی کا آئندہ اجلاس جنوری دو ہزار نو کو افغانستان کے دارلحکومت کابل میں ہو گا۔