Wednesday, 27 August, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے مضافات میں سہالہ بم حملے اور واہ کینٹ کے خودکش حملوں میں ایک ہی قسم کا دھماکہ خیز مواد پوٹاشمیم کلوریٹ استعمال ہوا ہے۔
پمز ہسپتال میں سہالہ بم حملے میں زخمی افراد کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ واہ اور سہالہ واقعات کی تحقیقات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔
اسلام آباد کے نواحی علاقے سہالہ میں کل رات ہونے والے ایک دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ سولہ زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکہ ایک ٹرک ہوٹل میں ہوا تھا۔ دھماکے کے وقت ہوٹل میں زیادہ تر مسافر موجود تھے۔
مزید خودکش حملہ آوروں کی آمد کے بارے میں اطلاعات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں۔ ’وہ ہیں تو خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ ہم سب نے مل کر اس کی مذمت کرنی ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے‘۔
تاہم مشیر داخلہ نے خودکش حملہ آوروں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں قدرے بحالی امن کے بعد سولہ ہزار پناہ گزین واپس اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام پناہ گزین رمضان کے آغاز سے قبل واپس لوٹ جائیں۔
واہ سے گرفتار ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے تحقیقات میں بتایا ہے کہ اسے غیرملکیوں کو مارنے کا کہہ کر وہاں بھیجا گیا تھا لیکن جب اس نے سب مقامی افراد دیکھے تو اس نے خود کو نہیں اڑایا۔
خفیہ ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تینوں ایجنسیاں مفید معلومات فراہم کر رہی ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو باجوڑ میں کامیابی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ان مشران کو سلوٹ کرتے ہیں جو باڑہ، ہنگو اور دیر جیسے علاقوں میں شدت پسندوں کا اپنے طور پر مقابلہ کر رہے ہیں۔