ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیرِ قانون و پارلیمانی امور فاروق ایچ نائیک نے چودھری افتخار کی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس عبد الحمید ڈوگر حلف لے چکے ہیں اور حکومت ان سے تصادم نہیں چاہتی۔
وفاقی وزیر قانوں نے پہلی مرتبہ واضح عندیہ دیا ہے کہ حکومت معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کو شاید بطور جج تو سپریم کورٹ میں واپس لینے کے لیے تیار ہو لیکن بطور چیف جسٹس نہیں۔
وزیرِ قانون نے یہ بھی کہا بیک وقت دو چیف جسٹسس کی موجودگی سے آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ’جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس کا حلف دیا جاچکا ہے اب کیا جسٹس افتخار چودہری کو وہ حلف دیا جاسکتا ہے یا نہیں، اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا‘۔
فاروق ایچ نائیک نے دعوٰی کیا کہ چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر پی سی او جج نہیں بلکہ انہوں نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کے بحالی کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوبارہ حلف اٹھائیں۔ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت تمام ججوں کی بحالی کے لیے تیار ہے تاہم انہیں دوبارہ حلف اٹھانا ہو گا۔ ’آج سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے حلف لینے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہم معزول ججوں کی بحالی کے حامی ہیں۔‘
وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ سندھ ججوں کی بحالی سے ثابت ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی اس مسئلے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ’اگر باقی جج بھی آنا چاہتے ہیں تو ہم خیرمقدم کریں گے اور کوئی تفریق نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ صدر کے مواخذے کے چوبیس گھنٹے بعد معزول ججوں کی بحالی کے متعلق کوئی معاہدہ نہیں دیکھا ہے۔
’اگر ایسا کوئی معاہدہ ہے تو ہم اس کو پورا کر رہے ہیں۔ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ معاہدے پر عمل درآمد میں دیر ہو رہی ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس معاہدے پر عمل نہیں ہو رہا۔‘
دریں اثناء سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر ملک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی ایک آسان مسئلہ ہے جسے وزیرِ قانون مشکل بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تین نومبر دو ہزار سات کا اقدام غیرآئینی تھا تو جسٹس افتخار چودھری کا ہٹایا جانا بھی غیر آئینی تھا۔ لہذا ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کی بطور چیف جسٹس تقرری نہیں ہو سکتی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک معزول ججز میں سے ایک بھی جج بحال نہیں ہوتا وکلاء چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان سمجھتی ہے کہ جسٹس افتخار چودھری متنازع ہیں تو پھر وہ آئینی ترمیم لائے۔