Monday, 25 August, 2008, 10:51 GMT 15:51 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے اعلان کو بےمعنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
تنظیم کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے کہا کہ تحریک طالبان کوئی سیاسی تنظیم نہیں جس پر پابندی سے اس کی اسلام آباد یا پارلیمان میں حصہ حاصل کرنے یا رکنیت حاصل کرنے میں مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اس پابندی سے ان کی تحریک کے لیے کیا مشکلات بڑھ سکتی ہیں؟ مولوی عمر نے کہا کہ اس فیصلے سے ان کی تنظیم مزید مضبوط ہوسکتی ہے اور انہیں توقع ہے کہ دیگر منقسم شدت پسند گروپ مل کر طالبان میں شامل ہوں گے۔
حکومت سے مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہیے انہیں مجاہد کہے، مجاہد یا قبائلی کہے، اور اسے یہ بات چیت کرنا ہوگی۔
مشیر داخلہ کی جانب سے میڈیا سے اپیل کہ وہ مقامی طالبان کے بیان نشر یا شائع نہ کرے ان کا کہنا تھا کہ اسے وہ صحافت پر حملہ تصور کریں گے۔ ’ہم بھی اس سرزمین کے رہنے والے ہیں اور میڈیا پر ہمارا بھی حق ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے موقف سے دنیا آگاہ ہو‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے کوئی اثاثے یا بنک کھاتے نہیں ہیں لہذا اس اعلان کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
واہ کینٹ پر حملے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں عام شہریوں کے جانی نقصان پر افسوس ہے لیکن یہ کارروائی انہوں نے انتقام کے طور پر کی تھی اور ان کا نشانہ عام شہری ہرگز نہیں تھے۔