Monday, 25 August, 2008, 03:33 GMT 08:33 PST
ذیشان ظفر
اسلام آباد
مشیر داخلہ رحمان ملک نےمقامی طالبان کی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کےلیے طالبان
کو اسلام آباد میں آ کر ہتھیار پھینکنے ہونگے۔
انہوں نے بتایا کہ طالبان اس سے پہلے بھی اس طرح کے اعلانات کرتے رہے ہیں اور بعد میں سکیورٹی فورس علاقے میں دوبارہ داخل ہوتی تو ان کو ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔
رحمان ملک کے مطابق اگر طالبان جنگ بندی کے معاملے پر مخلص ہیں تو انہیں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت میں آ کر ہتھیار پھینکنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی زبانی بات پر اب یقین نہیں کیا جائےگا۔
مشیر داخلہ نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ بحال ہونے تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔
واضع رہے کہ اتوار کے روز مقامی طالبان نے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی کاروائیاں عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
مشیر داخلہ نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں جاری آپریشن کے دوران ان تک ساڑھے پانچ سو عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی ازبک جنگجو بھی شامل ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے عام لوگوں کا آگاہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم نقل کرنے والے لوگوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
رحمان ملک نے بتایا کہ متعدد خودکش حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن سے حاصل ہونے والی معلومات جلد میڈیا کے سامنے پیش کی
جائے گی۔